سنجواں انکانٹر کیس

نیوز ڈیسک
جموں//حکام نے بتایا کہ سنجواں علاقے میں دو روز قبل ہوئے انکوانٹر کے سلسلے میں گرفتار تین کشمیری نوجوانوں کو پیر کو 10 دن کے لیے پولیس کی تحویل میں دیا گیا ۔ جیش محمد کے دو پشتو بولنے والے خودکش حملہ آور اس تصادم میں مارے گئے تھے ،جب وہ سرحد پار سے داخل ہوکر چھپنے میں کامیاب ہو گئے اور جمعہ کو سنجواں میں اس کی بس پر حملہ کر کے ایک CISF افسر کو ہلاک کر دیا۔ڈرائیور بلال احمد وگے اور اس کا مددگار اشفاق چوپان جو کوکر ناگ علاقے کے ہیں، جو مبینہ طور پر ملی ٹینٹوں کو ٹرک میں سانبہ کے ساپوال بارڈر سے سنجواں تک لے گئے اور ترال کے شفیق احمد شیخ ،جنہوں نے ملی ٹینٹوںکے قیام کا انتظام ایک گھر میں کیا۔پولیس نے گھر کے مالک کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا ہے۔ تاہم اس کیس میں ابھی تک اسے باضابطہ طور پر گرفتار کیا جانا باقی ہے۔تینوں ملزمان کو تیسرے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں پیش کرتے ہوئے، جو کہ ایک نامزد این آئی اے عدالت بھی ہے، حکام نے کہا کہ پولیس نے پوچھ گچھ کے لیے ان کا ریمانڈ طلب کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عدالت نے ملزمان کا 10 دن کا ریمانڈ پولیس کو دے دیا اور اس کے مطابق انہیں پوچھ گچھ کے لیے بھیج دیا گیا۔