سمبل واقعہ

 سرینگر// عدالت عالیہ نے سمبل واقعہ سے متعلق پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے ایسے 5مقامی اخبارات کے نام نوٹس اجراء کی ہے جنہوں نے متاثرہ کم سن بچی کی تصاویر اور شناخت ظاہر کی ہے ۔جمعہ کو پولیس کی جانب سے اس واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی گئی ۔رپورٹ میں عصمت ریزی سے متعلق طبی جانچ اور ملزم کی عمر کے تعین کے حوالے سے تفصیل پیش کی گئی ہے ۔مفاد عامہ عرضی پر سماعت کے دوران چیف جسٹس، جسٹس گیتا متل اور جسٹس تاشی ربستان نے 5اخبارات کے نام نوٹس جاری کئے جن پر متاثرہ بچی کی شناخت ظاہر کرنے اور اسکی تصویر شائع کرنے کا الزام ہے ۔عدالت عالیہ نے یوٹیوب ،فیس بک اور ٹویٹر کو بھی ہدایت دی کہ وہ اس طرح کا مواد اپنے نیٹ ورک سائٹس سے حذف کرے جو کہ متاثرہ بچی کی شناخت ظاہر کرتی ہو۔یہ ہدایت اس کیس کی امیکس کیوری ایڈوکیٹ فرح بشیر کی جانب سے ابھاری گئی شکایت کے بعد آئی جس میں انہوں نے میڈیا کے ایک سیکشن کی طرف سے متاثرہ بچی کی شناخت ظاہر کرنے کا الزام عائد کیا۔عدالت عالیہ نے رجسٹری کو حکم دیا کہ وہ کشمیر اوبزرور،کشمیر وژن ،کشمیر گلوری ،روزنامہ آفاق اور روزنامہ الحاق کے نام نوٹس جاری کریں کہ وہ اس بات کا جواب دیں کہ انہیں پی او سی ایس او ایکٹ کی دفعہ23کی خلاف ورزی پر قابل مواخذہ کیوں نہ بنایا جائے ۔عدالت عالیہ نے امیکس کیوری اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بی اے ڈار کی جانب سے پیش کی گئی رپوٹ متاثرہ کے کونسل شفقت نذیر کو فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی ۔