سمبل سونہ واری میں عوامی جلسہ سے پف لیڈروں کا خطاب | 35- اےاور370کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا ۔شاہ فیصل

سمبل// پیوپلز یونائٹیڈ فرنٹ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ فرنٹ ریاست کے لوگوں کو آنے والے ایام میں ایک موثر اور دیانتدار سیاسی متبادل فراہم کرے گا ۔ سمبل سونہ واری میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پف کے لیڈر اور جے کے پی ایم کے چیر مین ڈاکٹر شاہ فیصل نے کہا کہ ریاست کو نہ صرف خاندانی راج بلکہ اقرباء پروری اور رشوت ستانی سے پاک سیاسی قیادت فراہم کرنے کا وقت آ چکا ہے ۔ انہوں نے کہا ’’نہ صرف کہ ریاست کے لوگوں کو صاف اور شفاف انتظامیہ کی ضرورت ہے بلکہ ریاست کو حاصل خصوصی درجہ بشمول 35-Aاور 370کے تحفظ کیلئے ہر حال میں روایتی جماعتوں کا متبادل بے حد ضروری ہے اور پف کے علاوہ شائد ہی کوئی جماعت ایسا کرنے کی نیت رکھتی ہے ‘‘۔ ڈاکٹر فیصل نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پف کی قیادت پر بھروسہ کریں اور پوری ریاست کے اندر پف کے منشور کو آگے بڑھائیں تاکہ ریاست غیر یقینیت کے دلدل سے باہر آ سکے ۔ اس موقعہ پر پف کی کو آڑنیشن کمیٹی کے کنوینیر جاوید مصطفی میر نے کہا کہ پف کا قیام وقت کی اہم ترین ضرور ت ہے اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ روایتی سیاسی جماعتوں کو مسترد کرکے پف کا بھر پور ساتھ دیں ۔ اے آئی پی سربراہ انجینئر رشیدنے نئی دلی پر زور دیا کہ وہ کشمیر مسئلہ کے حل کیلئے پہل کریں اور طاقت ، ظلم و جبر کی پالیسی کو ترک کرے۔ انجینئر رشید نے کہا ’’کشمیر مسئلہ کی بات کرنا نہ تو ہندوستان دشمنی ہے اور نہ ہی ایسا کہنا کسی کو کسی کا ایجنٹ بناتا ہے ۔ نئی دلی کو آج نہیں تو کل تاریخی حقائق تسلیم کرنے ہونگے ۔ ریاست کے لوگ امن پسند ہیں لیکن امن کی خواہش کو ان کی کمزوری سمجھنا انتہائی بیوقوفی ہے‘‘۔ انجینئر رشید نے این سی قیادت پر الزام لگایا کہ اس کی 1947سے لیکر آج تک کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ اہل کشمیر کو بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ اس موقعہ پراور لوگوں کے علاوہ ڈاکٹر غلام مصطفی ، طارق راتھر اور قوام الدین شلواتی نے بھی تقریر کی ۔ بعد ازاں انجینئر رشید نے گلمرگ جا کر حالیہ آگ سے متاثرہ جگہ کا دورہ کیا جہاں کل رات آگ کی ایک ہولناک واردات میں 15دکانیں خاکستر ہو گئیں تھی۔ اس موقعہ پر انجینئر رشید نے متاثرین سے ہمدردی کرتے ہوئے سرکار سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ دکانداروں کی بحالی کیلئے فوری طور سے اقدامات اٹھائے جائیں۔