سرینگر سینٹرل جیل میں قیدی اور محافظین آپس میں لڑ پڑے

سرینگر//سرینگر سینٹرل جیل قیدیوں و جیل محافظین کے درمیان پرتشدد جھڑپوں سے میدان جنگ میں تبدیل ہوا۔اس دوران مظاہروں،دھماکوں ، شلنگ اور پیلٹ کے استعمال سے2نظر بند زخمی ہوئے، جبکہ2بارکوںکو نذر آتش کیا گیا اور ایک عمارت تباہ ہوئی۔قیدیوں نے سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑ ڈالے۔ اس دوران انتظامیہ نے جمعہ کو وادی میں انٹر نیٹ سروس معطل کردی جبکہ پائین شہر میں بندشیں عائد کی گئیں اور میر واعظ کو خانہ نظر بند کر کے جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔اس واقعہ کی تحقیقات ضلع ترقیاتی کمشنر کی سربراہی میں ایک ٹیم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واقعہ کیسے ہوا؟

  پولیس کا کہنا ہے کہ سینٹرل جیل سرینگر میں جمعرات کی شب 9بجے نظر بند قیدیوں کو پرانی بارکوں سے نئی تعمیر کی گئی بارکوں میں منتقل کرنے کے دوران قیدیوں اور جیل انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔جس کے ساتھ ہی یہاں یہ افواہ تیزی کے ساتھ گشت کرنے لگی کہ جیل میں مقید افراد کو بیرون وادی کی جیلوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ اس دوران یہاں دیگر قیدیوں نے جیل انتظامیہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے قیدیوں کی جیل منتقلی پر روک لگانے کی مانگ کی جس کے ساتھ ہی یہاں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ اندرون جیل میں حالات و واقعات نے اُس وقت گھمبیر رخ اختیار کیا جب یہاں ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس برائے وسطی کشمیر، ایس ایس پی سرینگر کے علاوہ ڈپٹی کمشنر سرینگر حالات کا جائزہ لینے کی خاطر پہنچ گئے البتہ یہاں مقید افراد نے جیل انتظامیہ کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا۔ ذرائع کے مطابق صورتحال اس وقت بے قابو ہوئی،جب قیدیوں نے کچھ تعمیراتی شیڈوں کو نذر آتش کرنا شروع کردیا اور جیل انتظامیہ کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوئیں۔ذرائع  نے بتایا’’ اس واقعے میں2بارکیں نذر آتش ہوئیں،جبکہ جیل کے جائیداد کو بھی نقصان پہنچا،جن میں داخلی اور خارجی گیٹوں پر کیمرے بھی شامل ہیں۔سرینگر سینٹرل جیل میں فی الوقت400سے زائد قیدی نظر بند ہیں۔ذرائع نے بتایا’’4دھماکوں کی آوازیں سنائی دی گئی جو گیس سلینڈر پھٹنے سے ہوئے۔معلوم ہوا ہے کہ رات بھر وقفہ وقفہ سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے دوران بے تحاشا شلنگ کی گئی اور پیلٹ کا استعمال بھی کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے’’ سازو سامان اور گاڑیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔‘‘  ذرائع نے مزید بتایا کہ اس دوران سنیئر افسران رات بھر صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے جیل میں موجود رہے اور صورتحال کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔معلوم ہوا ہے کہ اس واقعے میں2قیدی بھی زخمی ہوئے،اور انکی آنکھوں میں چوٹیں آئیں۔

 پولیس و انتظامی افسران کی مداخلت

ضلع ترقیاتی کمشنر شاہد اقبال چودھری،ڈی آئی جی وسطی کشمیر وی کے بریڈی،ڈی آئی جی سی آر پی ایف اور ایس ایس پی سرینگر ڈاکٹر حسیب مغل وہاں پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران ضلع ترقیاتی کمشنر نے نظر بندوں کے نمائندوں سے مفصل بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر کی یقین دہانی کے بعد ہی احتجاجی نظر بند واپس اپنی بارکوں میں چلے گئے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر جیل میں پیش آمدہ واقعات کے حوالے سے تحقیقات کی سربراہی کرینگے۔شاہد اقبال چودھری کاکہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر سنٹرل جیل واقعے کی انکوائری کررہا ہوں جہاں جمعرات شام دیر گئے قیدیوں اور جیل انتظامیہ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تھیں۔’’میں از خود واقعے کی انکوائری کررہا ہوں، میں صبح 9بجے سے ہی سنٹرل جیل سرینگر کے احاطے میں موجود ہوں۔ ایک اعلیٰ پولیس افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جب اعلیٰ سطحی ٹیم نے جیل کا دورہ کیا تو صورتحال قابو میں آگئی۔ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی نوعیت سے پولیس تھانہ رعناواری میں ایف آئی آر بھی درج کیا گیا ہے۔اس دوران معلوم ہوا ہے کہ کئی محکموں جن میں محکمہ تعمیرات عامہ،پی ایچ ای اور محکمہ بجلی بھی شامل ہے، کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ نقصانات کا تخمینہ لگائے۔اور اس سلسلے میں سرکار کے سامنے رپورٹ پیش کریں۔

جیل سے باہر صورتحال

پائین شہر کے کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کی خاطر پولیس و فورسز نے کئی جگہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی ہوئی تھیں اور یہاں سے لوگوں کو آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔انتظامیہ نے بے لگام افوا بازی پر روکتھام لگانے کے لئے وسطی، جنوبی اور شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا۔انتظامیہ نے شہر سرینگر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو صبح 9بجے سے ہی مکمل طور پر مفلوج کردیا جس کے ساتھ ہی سنٹرل جیل واقعے سے متعلق عوامی حلقوں میں مزید شکوک و شبہات نے جنم لینا شروع کردیا۔اس دوران انتظامیہ نے میر واعظ عمر فاروق کو جمعہ کی صبح ہی خانہ نظر بند کرتے ہوئے ان کی تمام دینی و سیاسی سرگرمیوں پر قدغن عائد کردی ۔ ادھرجمعہ کے پیش نظر انتظامیہ نے تاریخی جامع مسجد کو بھی نمازیوں کے لیے بند کرتے ہوئے یہاں نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ اطلاعات کے مطابق انتظامیہ نے جامع مسجد واقع نوہٹہ کے ارد گرد فورسز کی بھاری نفری کو تعینات کردیا تھا جس دوران اہلکاروں نے کسی بھی عام شہری کو مسجد کے احاطے کے اندر آنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے یہاں نماز جمعہ پر قدغن عائد کی۔