سرکیولر روڑ پروجیکٹ 50 برسوں میں صرف 50فیصد مکمل ہوا | 18برسوں سے ماسٹر پلان کا حلیہ بگاڑا گیا

سرینگر// سرینگر بالخصوص پائین شہر کے تعمیراتی ورثہ اور تاریخی یادگاریں، اس ماسٹر پلان کے تحت میونسپل قوانین کی ’’خلاف ورزی‘‘ تھی،جس کے تحت گزشتہ18برسوں سے شہر میں تعمیراتی کام ہو رہے تھے۔ ریاستی گورنر ایس پی ملک کی سربراہی میں ریاستی انتظامی کونسل میں حالیہ ایام میں منظور شدہ سرینگر میٹروپالٹین پلان(ایس ایم پی) 2035کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ شہر خاص میں بالخصوص ثقافتی ورثہ اور تاریخی یادگاریں میونسپل قوانین کی’’ خلاف ورزی ‘‘ تھی۔اس رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اس طرح کی نا قص منصوبہ بندی سے پائین شہر میں شہری ڈائزاین میں’’ خراب اور منفی اثرات‘‘ مرتب ہوئے۔ نیا ماسٹر پلان1970کے بعد تیسرا ایسا پلان ہے،جس کو شہر کیلئے منظوری دی گئی ہے،جبکہ پہلا ماسٹر پلان1971سے 1991تک کا تھا ،جس میں2000تک کیلئے10برسوں کی توسیع کی گئی تھی۔دوسرا ماسٹر پلان2001سے2021تک بنایا گیا ہے،تاہم اس میں اب ایک اور پلان شامل کیا گیا ہے۔نئے ماسٹر پلان میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ سڑکوں کی توسیع کے پروجیکٹ کس طرح مکمل ہوئے،جبکہ قدیم ڈھانچوںکی درجہ بندی کر کے انہیں تعمیراتی قوانین یا شہری سڑکوں کی تجاوزات کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔اس رپورٹ (ایس ایم پی) 2035 میں بلدیاتی ادارں سرینگر میونسپل کارپوریشن اور سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو اس کیلئے ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ نئے دستاویزات میں واضح کیا گیا ہے’’1991سے لیکر2001تک رخصتی کے منصوبے جیسی صورتحال تھی،جبکہ1991کے ماسٹر پلان کو2001تک غیر منطقی طور پر توسیع دی گئی،تاہم1971سے لیکر1991تک کا ماسٹر پلان،2000سے2021تک کے ماسٹر پلان کے برعکس شہر سرینگر کو سمجھنے میں مزید پر واضح اور وسیع تھا،مگر دونوں ماسٹر پلان سرینگر کو محفوظ سمت دینے میں ناکام ثابت ہوئے۔‘‘ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماسٹر پلان کی عمل آوری میں ناکامی میں میونسپل کارپوریشن اور سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قدیم ادارہ جاتی نظام سے بھی منسوب کیا جاسکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق’’ شہر کے مرکزی علاقوں میں سڑکوں کیلئے لائن کی تعمیر، تاریخی عمارتوں کی لائن سڑک کے بیچ میں ملتی ہے،جس کے نتیجے میں بیشتر عمارتیں سڑکوں کے نواح میں آگئی،جو خلاف ورزی ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق سرکیولر روڑ پروجیکٹ5دہائیاں مکمل ہونے کے بعد بھی50فیصد بھی مکمل نہیں ہوا، جس کے نتیجے میں شہری ڈائزاین نہ صرف متاثر ہوا،جبکہ شہر کے ورثے پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔جبکہ اس پروجیکٹ کے تحت شہر میں سڑکوں کو وسعت دینے کا منصوبہ تھا۔