سرنکوٹ //ہیومن ویلفیئر سوسائٹی جڑانوالی گلی کا ایک اجلاس ڈاک بنگلہ سرنکوٹ میں منعقد ہواجس کی صدارت سوسائٹی کے چیئرمین محمد رزاق بجاڑ نے کی ۔اس موقعہ پر مقررین نے کہاکہ حکومت کی طرف سے طے کیاگیا نیا فیس ڈھانچہ طلباءکو پریشان کرنے کیلئے مترادف ہے ۔انہوںنے کہاکہ 2018-18میں سکولی بچوں کو فیس معاف تھی لیکن جو فیس لی جارہی تھی وہ اول جماعت سے لے کر پانچویں جماعت تک 100 روپے داخلہ تیس تھی جبکہ چھٹی جماعت سے لے کر آٹھویں جماعت تک 200 روپے، نویں جماعت سے دسویں تک 450 روپے جبکہ گیارہویں جماعت اور بارہویں کی 750 روپے تھی ،لیکن 2017-18میں سرکاری سکولوں کے طلبا سے دوگنا فیس لی جارہی ہے جو طلباءکے ساتھ زیادتی ہوگی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر سرکاری سکولوں میں اتنی زیادہ فیس لی جاتی ہے تو پھر پرائیویٹ اور سرکاری سکولوں میں فرق کیا رہ جائے گا۔انہوںنے کہاکہ اس طرح سے سکولوں کے معیار میں گراوٹ آئے گی اور طلباءسرکاری سکولوں کا رخ کرناہی چھوڑ دیںگے ۔انہوںنے وزیر تعلیم سے اپیل کی کہ وہ فیصلہ پر نظرثانی کریں اور اس فیصلے کو واپس لیاجائے ۔اس موقعہ پر سوسائٹی کے چیئرمین کے علاوہ آصف بجاڑ، امتیاز احمد، محمد شکیل وغیرہ بھی موجو دتھے ۔ جب اس سلسلے میں چیف ایجوکیشن آفیسر پونچھ مشتاق احمد سے بات کی گئی تو انہوںنے کہاکہ یہ سرکاری حکمنامہ ہے اور پوری ریاست کا مسئلہ ہے ۔