سرحدی قصبہ اوڑی کا تعلیمی منظر نامہ زبوں حالی کا شکار

 اوڑی//سرحدی قصبہ اوڑی میں محکمہ تعلیم کا حال دن بہ دن بتر ہوتا جا رہا ہے کیوں قصبہ اوڑی کے دور دراز علاقوں میں سکولوں میں تدریسی عملے کی کمی ہے یا بھر طلبہ کو بیٹھنے کیلئے جگہ ہی نہیں ہے جس کی وجہ سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے،گورنمٹ بائز مڈل سکول لتیمار گھر کوٹ میں 150 طلبہ  3کمرو ںمیں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور صرف تین اساتذہ تعینات ہیں جس کی وجہ سے زیر تعلیم طلبہ کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔سکول میں تعینات کوثر احمدنامی استاد نے بتایا کہ ان کے سکول میں طلبہ کے بیٹھنے کے لئے بہت کم جگہ ہے اور وہ صرف تین کمروں میں9  جماعتوں کے بچوں کو تعلیم دینے کے لئے مجبور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2005 میں محکمہ تعلیم نے اس سکول کاد رجہ پرائمری سکول سے مڈل سکول تک بڑھایا تھا جس کے بعد سکول کیلئے ایک عمارت کا کام بھی شروع کیا گیا مگر چند روز سکول کا کام جاری رہنے کے بعد کام رک کیا اور 13 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی اس عمارت کا کام مکمل نہیں کیا گیا،اسی طرح کی شکایت اوڑی کنٹرول لائن پر واقعہ گوالتہ گاوں سے بھی موصول ہوئی ہے جہاں پر گورنمٹ بائزہائی سکول میں130 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور صرف2 اساتذہ تعینات ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اگر چہ انہوں نے تدریسی عملے کی کمی کی شکایت کئی بار چیف ایجوکیشن آفیسر بارہمولہ کی نوٹس میں لائی مگر کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی اور سکول میں زیر تعلیم سینکڑوں طلبہ کا مستقبل داوٗ پر لگ چکا ہے۔ادھر کشمیر عظمیٰ کو ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ سرحدی قصبہ اوڑی کے چار ایجوکیشنل زونوں میں 100 قریب اسامیوں کی کرسیاں کئی برسوں سے خالی پڑی ہیں جن میں ماسٹر،ہیڈ ماسٹر،پرنسپل اور زیڈ ای اوز شامل ہیں۔ اطلات کے مطابق اوڑی کے چار ایجوکیشن زون،جولا،اوڑی،چندن واڑی اور بونیار جہاں پر محکمہ تعلیم صرف دو زیڈای اوز تعینات ہیں،محمد سید خان زون اوڑی اور جولا اور غلام جیلانی زون چندن واڑی اور بونیار کیلئے تعینات کئے گئے ہیں ۔اگر چہ کشمیر عظمیٰ نے اس حولے سے چیف ایجوکیشن آفیسر بارہ مولہ سے بات کرنے کی کوشش کی تھی مگر رابطہ نہیں ہوسکا