سب ڈویژن بانہال کے باٹی باس شگن میں سات سال سے پانی نہیں | بے بس عوام کامحکمہ جل شکتی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ،ملازمین پر غفلت برتنے کاالزام

بانہال // ضلع رام بن میں تحصیل کھڑ کے باٹی باس ، شگن علاقے میں لوگوں نے پینے کے پانی کی شدید قلت اور محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی اپنے فرض سے بھرتی جارہی مسلسل غفلت اور عدم توجہی کے خلاف پیر کے روز احتجاجی مظاہرے کئے۔ شگن کا علاقہ حلقہ انتخاب بانہال میں واقع ہے اور ناچلانہ سے اوپر اونچی پہاڑیوں پر آباد شگن ، باٹیباس چکہ اور سربگھنی کے دیہات مختلف محکموں کی طرف سے مسلسل نظر انداز کئے جارہے ہیں۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پچھلے ایک سال سے باٹی باس شگن تحصیل کھڑی کی آبادی پینے کے پانی کی بوند بوند کی محتاج  ہوکر رہ گئی ہے اور پینے کا پانی حاصل کرنے کیلئے خواتین کو دور چشموں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی کے اواخر میں اس وقت کے ممبران اسمبلی بانہال محمد فاروق میر نے ستر وگن سے باٹی باس تک ایک پائپ لائین بچھائی تھی اور لوگ اس سے اپنی ضروریات پوری کرتے آرہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چھ سات سال سے بھاری برفباری اور باد و باراں کی وجہ سے یہ پائپ لائین اب خستہ حال اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس کی اور دیگر واٹر ورکس سکیموں کے نام پر لاکھوں روپئے کی رقومات محکمہ جل شکتی سب ڈویژن بانہال کے ملازمین مبینہ طور پر ہڑپ کر چکے ہیں۔ باٹی باس شگن کے لوگوں کا  الزام ہے کہ یہاں تعینات جل شکتی کے ملازمین اپنے نجی کاروباروں میں مشغول ہیں اور لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں سال سے کبھی کوئی جونیئر انجینئر نظر نہیں آیا ہے اور تمام کمان مقامی لائین مین کے ہاتھ دی گئی ہے جو مبینہ طور فرائض سے غفلت برت رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پینے کے پانی کی فراہمی کے معاملے کو لیکر کئی بار محکمہ جل شکتی رام بن کے ا یگزیکٹیو انجینئر ، اسسٹنٹ انجینئر اور ڈپٹی کمشنر رام بن کے علاوہ گورنر کے مشیر سے بھی مل چکے ہیں مگر اب تک پینے کے پانی کے بحران جوں کا توں ہے۔انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ جل جیون مشن کے تحت گھر گھر جل پہنچانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر سب ڈویژن بانہال انل گپتا نے بتایا کہ اس علاقے کیلئے واٹر ورکس کی ایک بڑی سکیم زیر غور ہے اور جلد ہی اس علاقے میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہو جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین پر لگائے گئے عوامی الزامات کی تحقیقات کی جائے گی۔