سب ضلع اسپتال کرالہ پورہ کپوارہ میں سہولیات کافقدان | نامعقول طبی عملہ،پرانی مشینیں،نامکمل آپریشن تھیٹر،عوام کو مشکلات

کپوارہ//کرالہ پورہ کپوارہ کے سب ضلع اسپتال میں طبی عملہ اور جدید سازوسامان نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے اوراکثر انہیں معمولی بیماریوں کیلئے ضلع اسپتال کپوارہ جاناپڑتا ہے۔کرالہ پورہ میں کئی دہائیاں قبل ایک پرائمری ہیلتھ سینٹر بنایاگیاتھا جسے آبادی میں اضافے کی بناپر کئی برس قبل سب ضلع اسپتال کا درجہ دیاگیا اور اسپتال کیلئے نئی عمارت کی تعمیر بھی دس سال قبل شروع کی گئی جوسست رفتاری کے باعث گزشتہ برس مکمل کی گئی اور اسپتال کو اس عمارت میں منتقل کیاگیا۔مقامی لوگوں کو امید تھی کہ اب اس اسپتال میں انہیں تمام سہولیات مہیا ہوں گی لیکن مقامی لوگو ں کے مطابق ایک سال قبل اسپتال کو نئی عمارت میں تو منتقل کیا گیا لیکن اس کے با وجود بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ۔مقامی لوگو ں کے مطابق موجود بلاک میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد شفیع میر نے اگرچہ اسپتال میں جدید طبی علاج و معالجہ بہم رکھنے کے لئے کافی کوشش کی لیکن ایک سب ضلع اسپتال میں مریضو ں کو جو طبی سہولیات میسر ہونی چایئے تھی،وہ ناکافی ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ آج تک مذکورہ اسپتال میں کوئی بھی سر جری عمل میں نہیں لائی گئی کیونکہ اسپتال کا آپریشن تھیٹر ابھی بھی تشنہ تکمیل ہے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق اسپتال میں ڈاکٹر وں کی خاصی تعداد موجود ہے لیکن آپریشن تھیٹر کو ابھی تک چالو نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے آج بھی مریضوں کو سر جری کے لئے کپوارہ لیجانا محکمہ صحت کی مجبوری بن گئی ہے ۔مقامی لوگو ں نے سوال کیاکہ اسپتال نئی عمارت میں منتقل کرنے کے باوجود بھی آپریشن تھیٹر نامکمل کیوں ہے؟ ۔سب ضلع اسپتال کرالہ پورہ میں ڈاکٹرو ں کی   کی چھ اسامیا ں خالی پڑی ہیں ۔مقامی لوگو ں کے مطابق اسپتال کا درجہ بڑھائے  20سال ہو گئے لیکن آج تک ماہر امراض اطفال تعینات نہیں کیا گیا جبکہ ماہر امراض خواتین  ایک ہی ڈاکٹر تعینات ہے اور اس کی غیر موجودگی میں حاملہ اور درد ذہ میں مبتلا خواتین کا علاج اسپتال میں تعینات دو لیڈی  ڈاکٹر جو میڈیکل آفیسر کہلاتی ہیں، کرتی ہیں ۔لوگو ں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسپتال میں ایک اور ماہر امراض خواتین ڈاکٹر کو تعینات کیا جائے ۔مقامی لوگو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسپتال میں ایک ڈجٹل ایکسرے مشین کو نصب کیا جائے کیونکہ اسپتال میں ابھی بھی وہی ایکسرے مشین ہے جو آج سے 20سال قبل تھی جبکہ الٹراسائونڈ مشین کو بھی تبد یل کر کے جدید مشینری نصب کی جائے ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں تعینات ڈاکٹرو ں کے لئے آج تک رہائش کا کوئی بھی انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے انہیں دوران ڈیوٹی مجبوری کے عالم میں ایک ہی کمرے میں گزارہ کرنا پڑتا ہے ۔اسپتال اگرچہ ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے لیکن ابھی تک اس کی دیوار بندی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اکثر اوقات اسپتال کے احاطہ میں آورہ کتے اور مویشی ہوتے ہیں ۔مقامی لوگو ں نے اسپتال کے ارد گرد ایک مکمل دیوار بندی تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔مقامی لوگوں نے محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ سب ضلع اسپتال میں آپریشن تھیٹر کے ساتھ ساتھ جدید قسم کی مشینری کو نصب کریں اور  سب ضلع اسپتال میں مریضوں کو جو سہولیات میسر ہونی چایئے ان کو دسیتاب رکھیں تاکہ اس دور دراز علاقہ کے مریضوں کو کسی بھی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔