سال 2018میں 103 شہری ہلاکتیں

سرینگر//وادی میںسال 2018میں ہوئی شہری ہلاکتوں کی رپورٹ’’ ٹپکتا لہو، 2018میں شہری ہلاکتوں کا جائزہ‘‘ جاری کی گئی ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران8خواتین سمیت103شہری جائے جھڑپوں،احتجاجی مظاہروں،نامعلوم بندوق برداروں اور بارودی مواد پھٹنے سے جان بحق ہوئے۔عالمی حقوق انسانی کے دن کی مناسبت سے سرینگر کے ایوان صحافت میں انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کی طرف سے منعقدہ تقریب کے دوران گزشتہ برس10دسمبر سے امسال9 دسمبر تک وادی میں شہری ہلاکتوں سے متعلق ایک جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔رپورٹ ہلاکتوں سے متعلق بشری حقوق کے ریاستی کمیشن میں پیش کردہ عرضیوں،پولیس و انتظامیہ کی طرف سے جوابات اور کمیشن کی ہدایات پر مبنی ہے۔تقریب سے معروف قانون دان اور بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر ایڈوکیٹ ظفر قریشی نے کہا کہ وادی میں اگرچہ پہلے بھی حقوق انسانی کی پامالیاں ہو رہی تھیں،تاہم2010کے بعد ان میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رپورٹوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے بشری حقوق پامالیوں کی دستاویز بندی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر ایک شہری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں تباہ مکانات و جائیداد،بشری پامالیوں،تشدد اور دیگر انسانی حقوق پامالیوں کا ریکارڈ رکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ بشری پامالیوں کے حوالے سے سینکڑوں کیس درج کرائے گئے ہیں تاہم’’ انکی تحقیقات تشنہ طلب ہیںجبکہ سینکڑوں کیس مرکز کو منظوری کیلئے سونپے گئے تاہم آج تک وہ زیر التواء ہیں‘‘۔ ظفر قریشی نے کہا کہ اس وقت بھارت کو کشمیریوں کے خلاف کوئی پروپگنڈا ہاتھ نہیں آرہا ہے، بین الاقوامی سطح پر انکی پوزیشن کمزور ہے۔اس موقعہ پر پروفیسر حمیدہ نعیم نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت کشمیر میں بشری پامالیوں کے گراف میں اضافہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا’’ نوآبادیاتی نظام کا یہی اصول ہے کہ ہر طرح کے مصائب ڈالے جائیں تاکہ لوگوں کو تھکایا جا ئے ‘ ‘ ۔ عبدالمجید زرگر نے کہا کہ کشمیر بشری حقوق کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور جب یہ سیاسی مسئلہ حل ہوگا تو بشری حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ بھی تھم جائے گا۔ظریف احمد ظریف،ایڈوکیٹ شبیر احمد اور ایڈوکیٹ بلال، صنعت کار اور سیول سوسائٹی ممبر شکیل قلندر نے بھی اس موقعہ پر تقریب سے خطاب کیا۔دریں اثنا رپورٹ کے مطابق جنگجوئوں اور فورسز کے درمیان خونین معرکہ آرائیوں کے دوران جائے جھڑپوں کے نزدیک40شہری لقمہ اجل بن گئے جبکہ ایک طالبہ اور  8 خواتین بھی جاں بحق ہوئیں، جن میں ایک خاتون حاملہ تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نامعلوم بندوق برداروں نے16کے قریب شہریوں کوہلاک کیااور2بچوں سمیت8شہری آتشی مادے کے پھٹنے سے جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک صحافی بھی جہاں تشدد کا ایندھن بنا ،وہیں احتجاجی مظاہروں،محاصروں،تلاشیوں اور کریک ڈائونوں کے علاوہ چھاپوں کے دوران قریب15شہری لقمہ اجل بن گئے۔مرنے والے شہریوں میں مزاحمتی اور مین اسٹریم خیمے کے7سیاسی کارکن بھی شامل تھے اور اس دوران دماغی طور پر نا خیز2شہری بھی گولیوں کا نشانہ بنے۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران فورسز اور شہریوں کے درمیان جھڑپوں میں2کمسن نوجوانوں کو فورسز کی گاڑیوں سے کچل کر ہلاک کیا گیا۔