بانہال//پیر کی شام پونے آٹھ بجے بانہال کے نزدیک بنکوٹ علاقے میں زیر تعمیر ریلوے ٹنل نمبر 77 ڈی کے اندر کی گئی بلاسٹنگ کی وجہ سے پنچایت بنکوٹ کے چھاناڑ علاقے میں درجنوں رہائشی مکانوں میں تازہ دراڑیں پڑ گئیں۔ یہ ٹنل 110کلومیٹر لمبی بانہال کٹرہ ریلوے لائن کا حصہ ہے ۔ پیرکی شام ہی لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے زیر تعمیر ٹنل کے باہر احتجاجی مظاہرے کئے اور ٹنل کے اندر اور باہر جاری تعمیراتی کام قریب 18گھنٹے تک روک دیا ۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ رہائشی مکانوں کو ٹنلوں کی تعمیر سے پہنچے نقصانات کا جائزہ لیا جائے اور متاثرین کو فوری طور معاوضہ ادا کیا جائے ۔ لوگوں کا الزام ہے کہ تعمیراتی کمپنی کی طرف سے ٹنل کے اندر غیر قانونی طور پر مسلسل بھاری بارودی دھماکے کئے جارہے ہیں اور پیر کی شام کئے گئے ایسے ہی زور دار بلاسٹنگ کی وجہ سے درجنوں رہائشی مکانوں کو نقصانات سے دوچار ہونا پڑا جبکہ پہلے ہی بنکوٹ گائوں کے ایک سو سے زائد متاثرین معاوضہ کے بغیر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ارکان انٹرنینشل کی جانب سے شام پانچ بجے بعد ٹنلوں کے اندر بلاسٹنگ پر مکمل پابندی ہے لیکن ٹنل تعمیراتی کمپنی اے بی سی آئی ان احکامات کو بالائے طاق رکھکر اور لوگوں کو کوئی پیشگی اطلاع دیئے بغیر ہی غلط اوقات میں بلاسٹنگ کررہی ہے ۔ منگل کی صبح تحصیلدار بانہال شیخ جاوید احمد اورایس ایچ او بانہال نعیم الحق نے IRCON انٹرنیشنل کے ڈی جی ایم اوتار کرشن اور سوامی ناتھن ، شمالی ریلوے کے ایگزیکٹیو انجینئر راکیش کمار ، تعمیراتی کمپنی ABCI کے پروجیکٹ منیجر ندیم شمس اور مقامی سرپنچ محمد الیاس وانی کے ہمراہ علاقے کا دورہ کیا اور گھر گھر جاکر نقصانات کا جائزہ لیا۔ IRCON انٹرنیشنل کے اسسٹنٹ جرنل منیجر سوامی ناتھن نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ان کی ٹیم نے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے پنچایت بنکوٹ کے چھاناڑ کا دورہ کیا۔ رہائشی مکانوں کو پہنچے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے پہلے ہی ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت الاسلام کی طرف سے تشکیل دی گئی تخمینہ کمیٹی جلد ہی علاقے کا دورہ کرے گی اور رپورٹ پیش کرے گی ۔