ریڑھیاں لگانے والے صرف مخصوص جگہوں پر ہی اپنا کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں: ایس ایم سی کمشنر

یو این آئی
سری نگر// سری نگر میونسپل کارپوریشن گرمائی راجدھانی سری نگر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی طور پر شاہراﺅں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف اپنی کارروائیاں شد و مد سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر جمعرات کو سری نگر کے گونی کھن علاقے سے لے کر لل دید ہسپتال تک ریڑھی بانوں کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔

 

ایس ایم سی کمشنر اطہر عامر خان کے مطابق ریڑھیاں لگانے والوں کے لئے مخصوص جگہ کی نشاندہی گئی ہے جہاں پر وہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں۔

 

انہوں نے بتایا کہ سڑکوں پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

سری نگر میونسپل کارپوریشن نے جمعرات کے روز گونی کھن سے لے کر لل دید ہسپتال تک شاہراﺅں کے اردگرد ریڑھیاں لگانے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی اور اُن کا مال بھی ضبط کیا۔

 

چھاپڑی فروشوں کو متنبہ کیا گیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران موصوف کمشنر نے بتایا کہ ہم نے تین مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں پر چھاپڑی فروش اپنا کاروبار جاری رکھ سکتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ میں خالصہ زون کے پاس جگہ چھاپڑی فروشوں کے لئے مخصوص رکھی گئی ہے ۔

 

اُن کے مطابق لل دید ہسپتال کے ارد گرد ریڑھیاں لگانے والوں کے لئے بھی جگہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو دو چار دنوں کے دوران تیار ہوگا۔

 

کمشنر موصوف نے بتایا کہ بٹہ مالو میں بھی ایک جگہ کا انتخاب کیا گیا ہےجہاں پرچھاپڑی فروش لگانے والے اپنا کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔

 

یہ سوال پوچھنے جانے پر کہ مہاراجہ بازار میں قائم دکاندار شاہراﺅں پر مال رکھ کر قانون کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں کے جواب میں ایس ایم سی کمشنر نے بتایا کہ اُنہیں متنبہ کیا گیا ہے کہ آگے سے وہ ایسا کرنے سے گریز کریں بصورت دیگر اُن کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

 

انہوں نے بتایا کہ سڑکیں لوگوں کے چلنے پھرنے کے لئے مخصوص ہوتی ہیں لہذا ان پر قبضہ کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

 

ان کا کہنا تھا کہ سری نگر میونسپل کارپوریشن نے ریڑھیاں لگانے والوں کے لئے مختلف مقامات پر جگہ کی نشاندہی کی ہے لہذا وہ وہیں پر اپنی ریڑھیاں لگا سکتے ہیں باقی کسی بھی جگہ اُنہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔