کولگام+بانڈی پورہ+جموں//ریڈونی کولگام میں مسلح جھڑپ کے بعد جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جبکہ حاجن میں ایک سرگرم جنگجو کو گرفتار کیا گیا اور سندر بنی راجوری میں 10ویں روز بھی تلاشی آپریشن جاری رہا۔
ریڈونی
پولیس کے مطابق نئی بستی ریڈونی کیموہ کولگام میں کم سے کم 2جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب قریب ڈیڑھ بجے فسٹ آر آر، 18بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے محاصرہ کیا اور تلاشی کارروائی شروع کی۔اس دوران بستی میں موجود جنگجوئوں کو محاصرے کی بھنک لگی اور انہوں نے سو دو بجے کے قریب سیکورٹی فورسز پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے بعد طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا جو کچھ دیر تک جاری رہا۔فائرنگ کے مختصر تبادلے کے بعد جنگجو فرار ہوئے لیکن فورسز نے محاصرہ تنگ کیا اور بستی میں روشنیوں کا انتظام کر کے ملحقہ بستیوں کو بھی گھیرے میں لیا۔اس کے بعد جمعہ کی صبح سبھی بستیوں کی تلاشیاں لی گئیں اور یہ سلسلہ دن کے 11بجے تک جاری رہا لیکن بعد میں محاصرہ ختم کیا گیا۔یاد رہے کہ مذکورہ علاقے میں فوج کا ایک کیمپ بھی ہے۔اس دوران پولیس نے دعویٰ کیاکہ شمالی ضلع بانڈی پورہ میں حال ہی لشکرمیں شامل ہوئے ایک مقامی جنگجوکواسلحہ وگولی بارودسمیت گرفتارکیاگیا ۔پولیس بیان میں بتایاگیاکہ حاجن بانڈی پورہ کے رہنے والے جنگجومزمل شیخ عرف ابومعاویہ کوگنڈجہانگیر کے نزدیک مشترکہ ناکے کے دوران گرفتار کیاگیا۔پولیس نے بتایاکہ اس کارروائی میں فوج کی13آرآر،سی آرپی ایف کی45ویں بٹالین اورآئی آرپی کی21ویں بٹالین کے اہلکاروںنے حصہ لیا۔بیان کے مطابق گرفتار کئے گئے جنگجو کی تحویل سے ایک پستول اورکچھ گولی بارود برآمد کیا گیا۔
راجوری
راجوری کے سندربنی سیکٹر میں گزشتہ10 دنوں سے جاری تلاشی کارروائی جاری رہی۔ جمعرات کویہاں معرکہ آرائی کے دوران 2جنگجو اور فوجی افسر سمیت2فوجیوں کی ہلاکت کے بعد گھنے جنگلوںمیں جمعہ کوبھی فوج نے تلاشی کارروائی جاری رکھی ،کیونکہ فوج کوشبہ ہے کہ جنگلوںمیں مزیدکچھ جنگجوموجودہوسکتے ہیں ۔ادھرفوج نے جمعہ کی صبح ضلع سانبہ میں بین الااقوامی سرحدکے نزدیک بھی تلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔پولیس کے مطابق سیکورٹی ایجنسیوںکوشبہ ہے کہ سرحدپار سے دراندازی کے بعدکچھ جنگجو یہاں چھپے ہوئے ہیں ،اسلئے تلاشی کارروائی شروع کی گئی ۔