ریل سروس بند ، یاترا معطل،وادی میں معمولات مفلوج،پائین شہر میں بندشیں

سرینگر//1931 کے شہدائے کشمیر کو خراج عقیدت ادا کرنے کی مناسبت سے دی گئی ہڑتال اور 'مزار شہداچلوکال کی وجہ سے ہفتہ کو وادی کشمیر کے اطراف واکناف میں معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے۔ حکام نے شہر خاص کے بعض حساس علاقوں میں ممکنہ احتجاجوں کی روک تھام کے لئے پابندیاں عائد کی تھیں۔اس دوران ریل سروس بند کی گئی جبکہ یاترا کو بھی ایک روز کیلئے معطل کیا گیا۔ہڑتال کال کی وجہ سے انتظامیہ نے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے 'مزار شہداء' کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا تھا، جبکہ ان پر سیکورٹی فورس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔سرینگر کے بازاروں میں تمام دکانیں بند رہنے اور سڑکوں سے ٹرانسپورٹ کی نقل وحمل معطل رہنے کے باعث ہو کا عالم طاری رہا۔ علاوہ ازیں وادی کے دیگر جملہ ضلع وتحصیل صدر مقامات میں بھی مکمل ہڑتال رہنے کی اطلاعات ہیں۔جہاں جنوبی کشمیر چاروں اضلاع میں ہڑتال کی وجہ سے بازار و سڑکیں سنساں رہیں وہیں شمالی وسطی کشمیر کے اضلاع میں بھی یوم شہداء کے موقع پر بازاروں میں دن بھر الو بولتے رہے۔ادھر حکام نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی 'مزار شہداء نقشبند صاحب' چلو کال کے پیش نظر شہر خاص کے بعض حساس علاقوں میں پابندیاں عائد کی تھیں۔نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد جمعہ سے ہی مقفل ہے اور اس کے دروازے ہفتہ کے روز بھی مسلسل مقفل رہے جامع کے گرد وپیش بھی سکورٹی فورسز کی نفری کو بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا تھا۔ حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق  کو نگین میں واقع اپنی رہائش گاہ پر خانہ نظر بند رکھا گیا  جبکہ بزرگ حریت لیڈر سید علی گیلانی گزشتہ قریب ایک دہائی سے حیدر پورہ میں واقع اپنی رہائش گاہ پر مسلسل خانہ نظر بند ہیں۔ ہڑتال کال کے پیش نظر ہفتہ کے روز  جموں سے امرناتھ یاترا معطل رہی وہیں وادی میں ٹرین سروس بھی بند رہی۔ ہڑتال کے پیش نظر ہفتہ کے روز جموں کے یاتری نواس بیس کیمپ سے کسی بھی یاترا جھتے کو پوتر گھپا کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی تاہم بال تل اور پہلگام میں پہلے ہی پہنچے یاتریوں کو گھپا کی طرف جانے کی اجازت دی گئی۔