ریاست کی منفرد شناخت کے تحفظ کامعاملہ پرپیرپنچال میں معمولات زندگی متاثر

سرنکوٹ// دفعہ 35 اے کے معاملہ کولے کرجہاںسرنکوٹ کے تاجروں نے مارکیٹ کو احتجاج کے طورپربند رکھا وہیں علاقے میں ٹریفک کی نقل وحرکت بھی متاثر رہی اور تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔ ذرائع کے مطابق یہ بنددفعہ 35اے کے تحفظ کیلئے کیاگیاتھا۔اس کے علاوہ ضلع انتظامیہ نے سرنکوٹ میں دفعہ 144 سی آرپی سی بھی نافذکیاتھالیکن اس کے باوجودلوگوں نے لوگوں نے مظاہرہ کیا اور مارکیٹ کو احتجاج کے طورپربند کر دیا۔ مظاہرے کے دوران بیوپار منڈل کے چیرمین طارق منہاس نے کہا کہ دفعہ 35اے جموں کشمیر کے لوگوں کی شناخت ہے اورمزیدکہا کہ اگر مرکزی سرکار نفرت پھیلانے کے بجائے ملک کی سا  لمیت پر زور دے تو بہت اچھا ہوگا۔ انھوں نے کہاکہ مرکزی سرکار صرف الیکشن میں جیت حاصل کرنے کے لیے عوام کو ہراساں اور گمراہ کر رہی ہے جو آنے والے وقت مصیبت بن سکتی ہے ۔لوگوں نے کہاکہ سرنکوٹ ایک ایسی زمین ہے جس میں ہندو مسلم سکھ اتحاد رہا ہے مگر اس کے باوجود یہاں پرضلع انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کیا گیا جو کہ افسوناک بات ہے اور پرامن ماحول کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔انھوں نے کہا کہ سرنکوٹ کی مارکیٹ کو کھولنا تھا لیکن  دفعہ144 نافذ کے اعلان نے تجارتی پیشہ لوگوں کو مارکیٹ بند کرنے پر مجبور کیا۔وہیں یوتھ لیڈر طارق اشرف نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ضلع انتظامیہ ہمارے لوگوں کو احتجاج کرنے کے لیے مجبور کر رہی ہے جس کے نتائج خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے جس طرح بیرون ریاستوں میں زیر تعلیم جموں کشمیر کے  طلبا کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا، اسی طرح ہمیں امید ہے کہ عدالت عظمیٰ آرٹیکل 35 اے پر ریاست جموں کشمیر کو تحفظ بخشنے کے لیے سنجیدہ فیصلہ سنائے گی۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ ریاست بھر کی طرح سرنکوٹ کے لوگ بھی اپنی شناخت بچانے کے لیے جنگ لڑیں گے۔