ریاست کی بالادستی نیلام

 سرینگر//”وادی کشمیر کے عوام مشکل ترین اور ناگفتہ بہہ حالات سے دوچار ہیں، ایک طرف سے ایک طرف اقتصادی بدحالی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے اور دوسری جانب حکومت لوگوں کے مشکلات حل کرنے میں غیر سنجیدہ اور لاپرواہ ثابت ہورہی ہے“۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر مختلف علاقوں سے آئے ہوئے وفود اور پارٹی کارکنوں سے تبالہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کہیں نام و نشان ہی نہیں۔ پی ڈی پی نے اقتدار کی خاطر تمام حدیں پار کردی ہیں، پہلے درپردہ طور پر ریاست کے معاملات ناگپور اور دلی والے چلا رہے تھے اور اب اعلاناً ریاست کے داخلی فیصلے بھی بیرونِ ریاست لئے جارہے ہیں۔ اگرچہ سنگ بازی میں ملوث نوجوانوں کے کیس واپس لینا ایک خوش آئندہ اقدام ہے تاہم اس کا فیصلہ ریاستی سطح پر ہونا چاہئے تھا ، لیکن پی ڈی پی والے اپنے ساجھیداروں کو ناراض کرنے کی سوچ بھی نہیں سکتے ، اس لئے ایسا کرنے سے ابھی تک گریز کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلے ریاست کے مکمل حد اختیار میں ہیں لیکن محبوبہ مفتی تب تک کوئی بھی اقدام نہیں اٹھاتی جب تک نہ ناگپور اور نئی دلی سے اس کا فرمان جاری ہوجائے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ سابق نیشنل کانفرنس حکومت کے دوران عمر عبداللہ نے 2012میں بحیثیت وزیرا علیٰ 1700نوجوانوں کے کیسوں کو واپس لیا تھااور اس کے لئے انہوں نے نہ تو کسی سے اجازت طلب کی اور نہ ہی کسی نے اُن کو احکامات جاری کئے۔ لیکن موجودہ خاتون وزیر اعلیٰ نے ریاست کی بالادستی اور وزارتِ اعلیٰ آفس کے تقدس کو مکمل طور پر نیلام کرکے رکھ دیا ہے اور اب چھوٹے سے چھوٹا کا فیصلہ بھی آر ایس ایس کی منظوری کے بنا نہیں ہوتا۔ لوگوں کو اب موجودہ حکومت سے کوئی اُمید نہیں، کیونکہ حکومتی سطح پر صرف کشمیر دشمن اور کشمیر مخالف اقدامات ہورہے ہیں ، باقی ماندہ کام نہ ہونے کے برابر ہورہے ہیں۔ نوکریوں کی بھرتیوں میں پبلک سروس کمیشن، ایس ایس بی اور پولیس بھرتی بورڈ کو موجودہ مخلوط سرکار ہر سطح پر نذر انداز کررہی ہے اورسیاسی بنیادوں پر نوکریاں فراہم کیں جارہی ہیں جبکہ مستحق اور قابل اُمیدواروں پر شب خون مارا جارہا ہے۔ آئے روز لوگ سڑکوں پر آکر بجلی، پانی اور دیگر ضروریاتِ زندگی کی عدم دستیابی کیخلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ہے۔ لوگوں کو روز مرزہ کی ضروریات کی سپلائی میں کوئی بھی بہتری نہیں آرہی ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ حکومت کی نااہلی سے انتظامیہ انتشار اور خلفشار کی شکار ہے جس کا براہ راست اثر عام آدمی پڑ رہا ہے۔