ریاست میں ٹریفک صورتحال ناگفتہ بہ:1.25لاکھ گاڑیوں کا سالانہ اضافہ، کل تعداد 17لاکھ تک پہنچ گئی

 سرینگر //ریاست جموں وکشمیر اس وقت ٹریفک کے بدترین مسائل میں گھری ہوئی ہے کیونکہ اس ریاست میں نہ تو بڑھتے حادثات پر کوئی روک لگ سکی اور نہ ہی گاڑیوں کی تعداد کو کم کرنے کیلئے کوئی سنجیدہ اقدامات کئے گئے، اگر حکمرانوں نے اس صورت حال کے تدارک کیلئے نتیجہ خیز اقدامات نہ کئے، تو نہ صرف ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھتی جائے گی بلکہ مزید ٹریفک شہریوں کیلئے عذاب بن جائے گی۔معلوم رہے کہ اس وقت ریاست جموں وکشمیر میںکل گاڑیوں کی تعداد 16لاکھ 57ہزار 4سو 33 سڑکوں پر رواں دواں ہیں ۔محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے ریاست میں اس وقت 13ہزار 8بسیں ، 19ہزار 92منی بسیں ، 10926ٹرک اور ٹرالے ، 45623ٹکسی ، 56992تھری ویلر ، 471812کاریں ، 15371جیب، 877700موٹر سائیکل اور سیکوٹر اور دیگر 39574گاڑیاں موجود ہیں ۔محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ ریاست میں سالانہ ایک لاکھ 30ہزار گاڑیوں میں اضافہ ہوتا ہے جس میں 80فیصد 2پہیے والی ہیں ان میں سے زیادہ تر گاڑیاںبنکوں سے قرضوں پر حاصل کی جاتی ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کے پاس ایسا کوئی بھی منصوبہ یا قانون نہیں ہے کہ وہ ان گاڑیوں کی روک تھام کیلئے کوئی اقدام کر سکے جبکہ کئی سال پرانی اور کنڈم گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹانے میں بھی محکمہ ٹرانسپورٹ مکمل طور پر ناکام ہے ۔دو سال قبل اگرچہ قانون ساز یہ کی ماحولیاتی کمیٹی نے ریاستی سرکار کو ایک تجویز پیش کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ بنکوں سے گاڑیوں کیلئے لون کی سہولیات کو بند کرے اور گاڑیاں حاصل کرنے والوں کیلئے یہ بات لازمی بنائی کہ گاڑی حاصل کرنے والا شہری مہارت یافتہ ہو اُس کے بعد ہی گاڑیوں کو چلانے کی اجازت فراہم کی جائے لیکن اس تجویز کو بھی ردی کی ٹوکری کی نذر کیا گیا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاست میں گاڑیوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے ہی سڑک حادثات میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور ہر سال ریاست میں 1ہزار افراد سڑک کے مختلف حادثات میں ہلاک اور 5ہزار سے زیادہ زخمی ہو جاتے ہیں۔ذرائع نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ سال2010سے سال2018اکتوبر تک ریاست جموں وکشمیر میں سڑک کے مختلف حادثات کی وجہ سے 8142افراد ہلاک جبکہ 73049افراد زخمی ہو ئے ہیں اور ٹریفک حادثات کا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔محکمہ ٹریفک میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ روان سال بھی اکتوبر تک ریاست جموں وکشمیر میں سڑک کے 5055سڑک حادثات کے دوران 851افراد لقمہ اجل اور 6682افراد زخمی ہو گے ہیں ۔ذرائع نے بتایا کہ جموں میں سب سے زیادہ سڑک حادثات جموں ضلع میں ہوئے ہیں جہاں 1015سڑک حادثات کے دوران 114افراد ہلاک اور 1130زخمی ہوئے ہیںجبکہ وادی میں سرینگر ضلع سرفہرست رہا ہے جہاں 326سڑک حادثات کے دوران 39لوگ ہلاک جبکہ 341افراد زخمی ہوئے ہیں اور ان حادثات کی روکتھام کیلئے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی ہے ۔محکمہ ٹریفک کے ایک اعلیٰ افسر کے مطابق ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ سے موبائل فون کا استعمال ، اورلوڈنگ اور تیز رفتاری ہے جبکہ محکمہ اس پر قابو پانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہر ایک شاہراہ پر ٹریفک کی نفری کو بڑھایا گیا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف چالان بھی کئے جاتے ہیں ۔انہوں نے مزید بتایا کہ روان سال اکتوبر کے مہینے تک ریاست بھر میں محکمہ ٹریفک نے 7لاکھ 39ہزار 3سو 98چالان کئے ہیں جن میں 1لاکھ 24ہزار 9سو 33کوٹ چالان ہیں جبکہ 6لاکھ 14ہزار 4سو 65کمپاونڈ چالان شامل ہیں۔