ریاست میں مخلوط سرکار کی افادیت ختم ، الطاف بخاری کی عمر عبداللہ کے بیان کی تائید

سرینگر//سابق وزیرخزانہ سید الطاف بخاری نے نیشنل کانفرنس نائب صدر عمر عبداللہ کے اس بیان کہ’ ریاست میں ایک ہی جماعت کی حکومت کیلئے آنے والے اسمبلی چنائو میں فیصلہ کُن منڈیٹ دیا جائے‘، کی تائید کی ہے۔ایک بیان میں بخاری نے کہا کہ میں ذاتی طور اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کشمیر کوسال2002سے مخلوط سیاست کی وجہ سے کافی نقصان بھگتنا پڑا۔آنے والے اسمبلی انتخابات ریاست کی مجموعی ترقی اور استحکام پر کافی اثرانداز ہوں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ میں یہ اب لوگوں کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں کہ وہ کس سیاسی جماعت کاانتخاب کریں گے جو ریاست کے سماجی اورسیاسی مفادات کاتحفظ کرسکے اور بہتر ین کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔سابق وزیرخزانہ نے کہا کہ مخلوط سیاست سے افراتفری کاماحول پیدا ہوتا ہے اورزیادہ تر غیر مستحکم حکومتیں قائم ہوتی ہیںجوحکومت کی پالیسیوں اور فیصلہ سازی کومتاثر کرکے محدود کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میرا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ مخلوط حکومت حقیقت میں کم ہی جمہوری ہوتی ہے کیونکہ اختلاط میں طاقت کا توازن چھوٹی جماعتوں کے پاس ہوتا ہے جو بڑی جماعت کو حمایت دینے کے عوض مراعات چاہتی ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹی جماعت بڑی جماعت کوحمایت دے کراپنی پالیسیاں تھوپ دیتی ہیں اور اس طرح بلیک میل کا عمل شروع ہوتا ہے ۔الطاف بخاری نے2008,2002اور2015کی جموں کشمیر میں مخلوط حکومتوں کے تلخ تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ریاست کو مخلوط حکومتوں کی مجبوریوں سے کافی تکلیف اُٹھانے پڑے ۔الطاف بخاری نے مزیدکہاکہ چاہے پی ڈی پی کانگریس ہو،این سی کانگریس ہویابی جے پی پی ڈی پی مخلوط حکومتیں ہوں ،ان سبھی حکومتوں میں  لوگوں کے مفادات اور امیدوں کی جوابدہی کمزور ہوگئی اورخاص کردونوں مخلوط اکائیوں کے ووٹروں کے مسائل حل نہیں کئے گئے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں حالیہ سیاسی سرگرمیاں ایک مخلوط سرکار کی نااہلی اور نقائص کانتیجہ ہے ۔ الطاف بخاری نے مزید کہا کہ مشکل سیاسی اور اقتصادی حالات میں کبھی کبھی نظریاتی  قطب نماحکومتوں کوبحران سے نکلنے کاراستہ فراہم کرتا ہے اور مخلوط حکومتوں میں اس فلسفے کا فقدان پایا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ دوررس منصوبہ بندی کیلئے ایسے فیصلے لینا لازمی ہیں جو قلیل مدت کیلئے ناپسندیدہ ہوتے ہیں ۔مخلوط حکومتیں ایسے امتحانات میں اکثرناکام ہوتی ہیں کیونکہ عارضی ناپسندیدگی ایک جماعت کو پسندیدہ فائدے کیلئے غداری کرنے کاحوصلہ بخشتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسی سیاسی مساوات حکومتوں کی  بڑے اصلاحات کوعمل میں لانے  قابلیت کوکافی حد تک محدود کرتی ہیںاور سیاست دان شاذ ہی کسی سیاسی جماعت میں کافی مدت تک رہتے ہیں کہ وہ ووٹروں کی توقعات کو بھانپ سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مخلوط حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کے درمیان توتومیںمیںعوام میں ان جماعتوں اورمنتخب نمائندوںکی اعتباریت کومجروح کرتی ہے۔ انہوں نے ریاست کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کسی ایک سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کااپنا من بنائے جس کو وہ سمجھتے ہوں کہ وہ تبدیلی لائے گی اور لوگوں کے سیاسی واقتصادی مسائل اور سیاسی خواہشات کو پورا کرے گی۔الطاف بخاری نے کہا کہ جموں کشمیر ایک فتنہ انگیز سیاسی حالات سے گذررہا ہے ۔اس وقت میں  ریاست کے تمام خطوں کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ متحد ہو کر کسی ایک  سیاسی پارٹی جو اُن کی نظر میں لوگوں کے توقعات پر پورا اُترے گی ،کوفیصلہ کن منڈیٹ دیں۔