ریاستی عوام ۔۔۔ توپ کی رسد کب تک بنتے رہیں گے؟

 جموں صوبہ میں لائن آف کنٹرول سے لیکر بین الاقوامی سرحد پرگزشتہ8روز سے جنگ جیسی صورتحال ہے ۔دونوں جانب سے آتشی گولہ باری تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران جنگ بندی کی خلاف ورزی کے نتیجہ میں سرحد کے دونوں جانب کم ازکم5کے قریب اموات واقع ہوئی ہیں جبکہ ایک وسیع سرحدی آبادی جان کی امان پانے کیلئے نقل مکانی کرچکی ہے ۔جانکار حلقوں کے مطابق سرحدی گولہ باری کے اس نہ تھمنے والے سلسلہ کی وجہ سے درجنوں دیہات متاثر ہوچکے ہیں اور اشتعال انگیزی کا یہ عالم ہے کہ دونوں جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ 120 ایم ایم اور 180 ایم ایم مارٹر گولے بھی داغے جارہے ہیں ۔ایک طرف امن اور مفاہمت کی باتیں کی جارہی ہیں جبکہ دوسری جانب فلیگ میٹنگوں اور ہاٹ لائن روابط کے باوجود سرحدوں پر لگی توپیں آگ اگلنا بند نہیں کررہی ہیںاور کشمیر سے کٹھوعہ تک وقفہ وقفہ سے سرحدی گولہ باری جاری ہے ۔سرحدوں پر کشیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بھارتی دعوئوںکے مطابق پاکستانی افواج نے سال رفتہ یعنی2018میں2,936 دفعہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کی ہے جن میں61افراد ہلاک جبکہ 250کے قریب زخمی ہوگئے جبکہ پاکستانی حکام کے مطابق اسی عرصہ کے دوران بھارت کی جانب سے 5ہزار سے زائد بار ایسی خلاف ورزی کی جاچکی ہیں، جن کے نتیجہ میں27افراد ہلاک جبکہ163سے زیادہ لوگ زخمی ہوچکے ہیں۔صورتحال کی سنگینی کا یہ عالم ہے کہ 2003کے جنگ بندی معاہدہ کے بعد2018کو اس معاہدہ کی خلاف ورزیوں کیلئے سب سے بدترین سال قرار دیا گیا تھا اور 2017کی نسبت 2018میںجنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں3گنا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اس میں مجموعی طور 6گنا اضافہ ہوا ہے ۔اعداد وشمار خود بتارہے ہیں کہ سرحدوں کی صورتحال قطعی صحیح نہیں ہے اور یہ ایک طرح کی جنگ ہے جو دونوں جانب سے جاری ہے اور دونوں فریق ایک دوسرے کو اس کیلئے مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ۔ایک زمانہ ایسا تھا جب سرحدوں پر جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کاایک بھی واقعہ پیش نہیں آتا تھا۔26نومبر2003کو جنگ بندی معاہدہ عمل میں آیا تو اس کے بعدمسلسل تین برسوں تک سرحدوں پر بندوقیں خاموش رہیں اور2004،2005اور2006میں ایک بھی خلاف ورزی کا واقعہ پیش نہ آیا ۔یہ وہ دور تھا جب واجپائی اور مشرف کے درمیان مذاکراتی عمل اپنی انتہا پر تھااور یہی وہ دور ہے جب بھارت حد متارکہ پر تار بندی کرنے میں کامیاب بھی ہوا ۔تاہم2006سے حالات بدلنا شروع ہوگئے اور سرحدوں کا سکون قائم نہ رہ سکا۔2006میں تین دفعہ جبکہ2007میں21اور2008میں77دفعہ اس معاہدہ کی دھجیاں بکھیری گئیں تاہم بعد ازاں اس میں پھر قدرے کمی ہوئی او2009میں یہ تعداد28تک پہنچ گئی لیکن پھر گراف بڑھنے لگا اور 2010میں 44 جبکہ 2011 میں 62 ، 2012 میں114اور2013میں347دفعہ جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔ہندوپاک تعلقات میں کشیدگی کا گراف جوں جوں بڑھتا گیا ،سرحدی کشیدگی بھی بڑھتی گئی اور2014میں سرحدی جنگ بندی خلاف ورزیوں کی تعداد583اور2015میں405تک پہنچ گئی۔2014کے بعد سے سرحدیں عملی طور آگ برسا رہی ہیں اور آہنی گولہ باری ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔2016میں سرحدی گولہ باری کے 500سے زیادہ واقعات پیش آئے جبکہ2017میںیہ تعداد971تک پہنچ گئی اور 2018میں کشیدگی کی اُس وقت حد ہی ہوگئی جب یہ تعداد3ہزار تک پہنچ گئی اور امسال بھی ابتدائی نو دنوں میں بھی سرحدیں گرج رہی ہیں۔سال رفتہ کے اعدادوشمار کے مطابق روزانہ اوسطاً8بار سرحدوں پرگولہ باری ہوئی ہے ۔یہ اعدادوشمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بھلے ہی امن و مفاہمت کی باتیں ہورہی ہوں تاہم سرحدوں پر دہشت کی حکمرانی ہے اور ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ ہندوپاک کی اس کشیدگی کا خمیازہ آر پار ریاستی عوام کو ہی بھگتنا پڑرہا ہے اور ایل او سی کے دونوں جانب عام لوگ اس ہند وپاک کشیدگی میں توپ کی رسد بن رہے ہیں اور یوں اگر کسی کو امن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تو وہ کشمیری عوام ہی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ کشمیری عوام سب سے زیادہ امن کی وکالت کررہے ہیںلیکن اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ سرحدی سکوت ہندوپاک تعلقات میں گرمجوشی سے مشروط ہے ۔اس لئے کم ازکم ریاستی عوام پر ترس کھا کر ہندوپاک کی قیادت کو چاہئے کہ وہ امن کی طرف لوٹ آئیں تاکہ کشمیری عوام کو راحت کے چند پل میسر آسکیں اور اگر امن لوٹ آتا ہے تو مسائل کے حل کی راہ بھی خود بخود نکل آئے گی۔