ریاستی حکومت تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے: ایم ایل سی گپتا

بھدرواہ //محبوبہ مفتی سرکار کو فوری طور برطرف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم ایل سی نریش گپتانے کہا ہے کہ مرکزی و ریاستی سرکار کی غلط پالسیوںکی وجہ سے ریاست جموں و کشمیر مکمل طور سے تباہی کی طرف جا رہی ہے۔بدھ کے روز یہاں میڈیا سے رسانہ واقعہ رونما ہونے کے بعد پیدا ہوئے ریاست کے سیاسی منظر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بی جے پی پرالزام لگایا کہ بی جے پی فرقہ وارانہ باتیں کرتے ہوئے عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مخلوط سرکار کی غلط پالسیوں کی وجہ سے ریاست نہ صرف تباہی کی طرف جا رہی ہے بلکہ انہوںنے ریاست جموں و کشمیر کو 90کی دہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسا خدشہ ہے کہ ہم ریاست کے ہر طرف سے بندوقوں کی گن گرج سنیں گے۔گپتا نے مزید کہا کہ ریاستی مخلوط سرکار تمام محاذوں پر ناکام ہو گئی ہے اور وہ اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لئے فرقہ وارانہ ایجنڈا چلا رہی ہے۔انہوں نے ریاست کے مفاد عامہ کے لئے ریاستی مخلوط سرکار کوفوری طور برخاست کرنے اور نئے سرے سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔سرکاری خزانہ عامرہ پر مبینہ لوٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہااُنہوں نے مبینہ الزام لگایا کہ منتخب بی جے پی نمائندے خصوصاً وادی چناب کے نمائندے خزانہ عامرہ کو دو، دو ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ تعمیراتی کاموں کے نام پر کروڑوں روپیہ نکالا جا رہا ہے ،جسکا کہیں وجود ہی نہیں ہے یا انکو سابقہ سرکار نے تکمیل دیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بی جے پی کو چاہیے کہ وہ اپنے تین سال کے دور اقتدار میں انجام دی ہوئی کاموں پر وائٹ پیپر جاری کرے۔انہوں نے وزیر بجلی سنیل شرما کے وزیر اعظم کے دعویٰ کو متضاد کر دیاکہ ریاست میں ابھی بھی 102 دیہات ایسے ہیں جہاں بجلی نہیں پہنچائی گئی ہے۔