روہنگیائی مہاجرین کا عارضی شناختی کارڈوں کیلئے رجوع

جموں//اقوام متحدہ کے رفیوجی کمیشن  کی طرف سے فراہم کردہ شناختی کارڈ وں کی معیادستمبر میں ختم ہو رہی ہے ، جموں میں مقیم روہنگیائی مہاجرین نے ان کی تجدید کے لئے دہلی میں کمیشن کے دفتر میں عرضیاں دائر کر دی ہیں کیوں کہ ان مہاجرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی دوسرے ملک میں بلا اجازت رہائش رکھنا غیر قانونی ہے۔اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے رفیوجی  یو این ایچ آر سی کی طرف سے درج شدہ مہاجرین کو شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات جاری کئے جاتے ہیں تا کہ انہیں گرفتاری اور ملک بدری سے تحفظ فراہم کیا جا سکے ۔دل محمد ولد عبدالقاسم انچارج قبرستان پلاٹس نروال بالا نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ’’ہم بھی جانتے ہیں کہ ہمیں کسی پرائے ملک میں رہنے کے لئے کچھ ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ جموں میں کوئی بھی رفیوجی غیر قانونی طور پر رہائش اختیار نہ کر لے ، ہم نے اپنی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو پورے جموں میں برمی مہاجرین کی طرف سے بنائی گئی بستیوں پر نظر رکھتی ہیں۔ اگر کوئی بھی  UNHCRشناختی کارڈکے بغیر پایا جاتا ہے تو ہم اسے جموں سے واپس بھیج دیتے ہیں ‘‘۔دل محمدکریانی تالاب میں کرایہ پر لئے گئے کھوکھے میں سوکھی مچھلیاں فروخت کر کے دو وقت کے کھانے کا انتظام کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کریانی تالاب میں 23معزز روہنگیائی مہاجرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی مہاجر غیر قانونی طور پر یہاں رہائش اختیار نہ کرے۔ انہوں نے بتایا کہ ’22پلاٹ انچارج اور ایک چیئر مین پر مشتمل یہ کمیٹی اکثر و بیشتر اس بات کی جانچ کرتی رہتی ہے کہ جن پلاٹوں پر ہم نے جھگیاں بنائی ہوئی ہیں وہاں کوئی بھی ایسا شخص رہائش پذیر نہ ہوسکے جس کے پاس UNHCR کی جاری کردہ دستاویزات نہ ہوں۔ جموں کے دیگر حصوں میں بھی اسی قسم کی کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ دل محمد نے بتایا کہ ’ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہم جموں میں صرف عارضی پناہ گزیں ہیں ریاست کے مستقل باشندے نہیں ہیں اور نہ ہی ہم یہاں مستقل آباد ہونے کی خواہش رکھتے ہیں لیکن جب تک ہمارے وطن میں حالات سازگار نہیں ہو جاتے جموں کے عوام کو ہمارے ساتھ صرف انسانی بنیادوں پرسلوک روا رکھنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جب تک میانمار میں روہنگیائی مہاجر سرکاری کیمپوں سے نکل کر اپنے گھروں میں جانے کے قابل نہیں ہوتے تب تک بنگلہ دیش یا ہندوستان میں پناہ گزین مہاجر اپنے وطن واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ ایک دوسرے روہنگیائی رفیوجی عامر حسین ولد علی حسین نے بتایا کہ ابتدا میں 1600کے قریب روہنگیائی کنبے کریانی تالاب میں آئے تھے لیکن جموں میں ان کے خلاف کی جانے والی بیان بازیوں کی وجہ سے 1000کے قریب دہلی اور حیدرآباد چلے گئے ہیں۔انہوں نے میڈیا کے ایک طبقہ پر بھی روہنگیا مخالف مہم چلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جموں کے عوام کے دلوں میں ان کے تئیں نفرت اور خوف پیدا کرنے کے لئے من گھڑت کہانیاں شائع کی جاتی رہی ہیں۔ حسین کا کہنا تھا کہ کئی میڈیا والے ہماری کالونیوں میں آکر ہمیں امداد کا یقین دلاتے ہیں، ہمارے مسائل ابھارنے کی بات کرتے ہیں لیکن ان کے اخباروں اور چینلوں میں چلائی جانے والی خبریں اس کے بالکل برعکس ہوتی ہیں جن میں ہمیں دہشت گردوں کے ہمدرد، چور اور مجرم وغیرہ قرار دیا جاتا ہے ۔تاہم انہوں نے کہا کہ کئی صحافیوں نے ہماری حالت زار کے بارے میں بھی خبریں شائع کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میانمار میں ان کی سینکڑوں ایکڑ زمین تھی لیکن ایک دن انہیں وہاں سے کھدیڑ دیا گیا، جونہی میانمار کیمپوں کے رفیوجی اپنے گھروں کو جاتے ہیں ہم بھی واپس برما چلے جائیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ ریاستی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق جموں کشمیر کے مختلف حصوں میں 6523روہنگیائی مقیم ہیں جن میں سے 6461صرف جموں ضلع میں ہیں۔ حال ہی میں مرکزی وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری انوج شرما نے چیف سیکرٹری بی بی ویاس کے نام ایک مکتوب میں روہنگیائی پناہ گزینوں کے جموں کشمیر میں غیر قانونی داخلہ پر روک لگانے کے لئے کہا ہے ۔