روحانی مقاصد کیلئے تکمیلی کردار

محمد توحید خان ندوی
 رمضان المبارک کا ہر دن ہر رات حسب ظرف و کردار قرب خداوندی کا احساس دلاتی ہے مگر آخری عشرہ کے ایام اور اس کی راتیں ربّ العالمین کی رحمتوں کے متوالوں اور اس کے دریائےعطا و بخشش کے طلبگاروں کے لئے ایک انمول تحفہ ہے کیونکہ اسی عشرہ کی طاق راتوں میں سے کوئی رات شب زندہ داروں کے لئے شب قدر واقع ہوتی ہے اور طالبین مغفرت ، باہمت و باتوفیق بندگان خدا اسی رات کی عبادت کی تلاش میں ماہ مقدس کے آخری عشرہ کا اعتکاف کرتے ہیں، شب قدر اور اعتکاف دراصل ماہ مقدس کی مخصوص عبادات روزہ و تراویح کے لئے تکمیل کا کردار ادا کرتے ہیں۔

روزہ دن کی طویل عبادت ہوتی ہے اور تراویح رات کے قیام میں چند گھنٹوں میں ادا ہوجاتی ہے جبکہ اعتکاف کی عبادت مکمل دس راتوں اور دنوں میں دنیا کے تمام کاروبار سے یکسو ہوکر سراپا و ہمہ وقت خانہ خدا میں ٹھہرے رہنے سے ادا ہوتی ہے جو اپنی فضیلت و برتری ، حقیقت و ماہیت کے لحاظ سے عبادت کی روح اور قرب خداوندی کے حصول میں سب زیادہ مؤثر و مفید کردار ادا کرتی ہے۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے سرفراز کئے جانے سے پہلے غار حرا میں پہلا اعتکاف فرمایا ،یہاں تک آپ ؐکی روحانیت، قوت ملکوتی اس درجے پر پہونچ گئی کہ آپؐ کے قلبِ اطہر پر قرآن مجید کے الفاظ و معانی کا نزول شروع ہوگیا اور آپ شب قدر کی تلاش میں (جس میں قرآن مجید کا نزول شروع ہوا تھا) اپنی مدنی زندگی میں بھی آخری عشرہ کا اعتکاف فرماتے رہے ،یہاں تک ایک بار سفری ضرورت درپیش ہونے کی بنا پر آپ اعتکاف نہ کرسکے تو اگلے سال اس کی تلافی کے لئے دس کے بجائے مکمل بیس دنوں کا اعتکاف فرمایا۔ مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:’’اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف سے یکسو اور سب سے منقطع ہو کر بس اللّٰہ تعالیٰ سے لَو لگا کے اس کے درپے (یعنی مسجد کے کسی کونےمیں)پڑ جائے اور سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اسی ذکر و فکر میں مشغول رہے ،یہ اخص الخواص عبادت ہے‘‘۔

نزولِ قرآن سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارک میں سب سے یکسو اور الگ ہوکر تنہائی میں اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر وفکر کا جو بیتابانہ جذبہ پیدا ہوا تھا، جس کے نتیجے میں آپ مسلسل کئی مہینے غار حرا میں خلوت گزینی کرتے رہے۔ یہ گویا آپ ؐکا پہلا اعتکاف تھا اور اس اعتکاف ہی میں آپؐ کی روحانیت اس مقام تک پہونچ گئی تھی کہ آپ پر قرآن مجید کا نزول شروع ہوجائے، چنانچہ حرا کے اس اعتکاف کے آخری ایام ہی میں اللّٰہ کے حاملِ وحی فرشتے جبریل سورہ اقرا کی ابتدائی آیتیں لے کر نازل ہوئے۔ تحقیق یہ ہے کہ یہ رمضان مبارک کا مہینہ اور اس کا آخری عشرہ تھا اور وہ رات شبِ قدر تھی۔

اعتکاف روحانیت، قرب خداوندی، تربیت نفس، تزکیہ اخلاق، کے ان حصوں کی تکمیل کرتاہے جو بیس دنوں کے مسلسل روزوں، راتوں کی تراویح کے باوجود تشنہ رہ جاتے ہیں اس کا اہتمام ماہ رمضان کے روحانی و اخلاقی مقاصد کی تکمیل کا حصہ ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں روزہ کی فرضیت، نزولِ قرآن کے بیان کے ذیل میں اعتکاف کا ذکر آیا ہے اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ماہ مقدس کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا قرآنی ترتیب کی رعایت اور مشیت الٰہی کے عین مطابق تھا ۔اعتکاف کرنے سے انسان کو نفس و شیطان پر قابو پانے، گناہوں سے بچنے، نیکیوں پر ثابت قدم رہنے کی زبردست قوت حاصل ہوتی ہے۔ مسجد میں معتکف شخص بہت سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور رفتہ رفتہ اس میں نفس کے شہوانی مزاج کو کچلنے اور طبیعت کو معتدل و مضبوط بنانے پر پختگی اور اس کا مزاج حاصل ہوجاتا ہے۔حالت اعتکاف میں بیٹھنے والا شخص گرچہ بہت سے اجتماعی اعمال، بیرونی دنیا کی نیکیوں سے محروم ہوجاتا ہے مگر اسے انکا اجر و ثواب ان میں شرکت کیے بغیر بھی ملتا رہتا ہے جب تک وہ اعتکاف سے باہر نہیں آجاتا، یہ فضیلت اعتکاف کو تمام عبادتوں سے ممتاز بنا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ ماہ مقدس کے محض دس دنوں کے اعتکاف کا ثواب ایک حدیث میں دو حج و عمرہ کے برابر بھی بتایا گیا ہے۔

اعتکاف کی عبادت ایسی عبادت ہے کہ وہ سوتے جاگتے ہر وقت جاری رہتی ہے اور اسی بنیاد پر شب قدر کی عبادت معتکف کو بہر حال نصیب ہوجاتی ہے اگر چہ وہ سو کیوں نہ رہا ہے البتہ جاگ کر شب قدر پانے والا فضیلت میں بڑھا ہوا ہے۔اعتکاف جو رمضان المبارک کے مقاصد میں تکمیلی کردار ادا کرتی ہے کی طرف بحیثیت مجموعی ہمارا رُجحان نہ کے برابر ہے۔اعتکاف کی اہم ترین عبادت اور اس کی اتنی فضیلتوں، روحانی و اخلاقی فوائد کے باوجود اُمتِ مسلمہ بالعموم اس سے غافل ہے۔