رشتوں کے ساتھ انصاف عین عبادت ؛ ڈاکٹر اسلم پرویز

ٹی این بھارتی

نئی دہلی// عہد حاضر میں جہاں ایک طرف مسلم معاشرے میں مذہب اسلام و قرآن کریم سے دوری میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، وہیں دوسری جانب قرآن مجید کے احکامات پر عمل پیرا ہونے کی غرض سے قرآن سینٹر کے بانی اور سا ئنسی امور کے ماہر نیز سابق چانسلر و پرنسپل ڈاکٹر اسلم پرویز گزشتہ بارہ برس سے دہلی میں قرآن کانفرنس منعقد کر نے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس سلسلہ میں غالب انسٹی ٹیوٹ میں سال رواں کی قرآن کانفرنس کے دوران ڈاکٹر اسلم پرویز نے شوہر بیوی اور قرآن عنوان کے تحت اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے احکامات سے منسلک آدمی ہی متقی ہے، سب سے بہترین مخلوق بھی انسان ہے اور بد ترین مخلوق بھی انسان ہے ،جو لوگ اللہ کے احکامات کے خلاف من مرضی سے زندگی گزارنے ہیں ،وہ فاجر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں شوہر و بیوی کو یکساں حقوق دیئے گئے ہیں ۔ بیوی کو پیر کی جوتی سمجھنا یا محض اس کو خادمہ سمجھ کر زوجہ کی شکل میں قبول کرنا سراسر نا انصافی ہے ۔ عمل صالح کرنے والے مرد و عورت کو دونوں جہاں میں بہتر صلہ ملے گا۔ بیوی کو شوہر کی فرما بردار ہونا لازم ہے تو شوہر کو بھی بیوی کے ساتھ محبت و صلہ رحم ہونا چاہیے۔ رشتوں کے ساتھ انصاف کرنا عین عبادت ہے مسلم وہی ہے جو اللہ کے احکامات کے تئیں اپنی زندگی اللہ کو سونپ دے۔ ا للہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔ ڈاکٹر کامران خان ( کینسر سرجن ، ممبئی ) نے کہا کہ قرآن مجید علم و حکمت کا مکمل حصہ ہے۔ انہوں نے متفکر انداز میں کہا کہ مو جودہ دور مصنوعی ذہانت کا دور ہے سو شل میڈیا کے زمانہ میں قرآن کریم کو مد نظر رکھ کر سائینسی ایجادات کی طرف متوجہ ہو نا اشد ضروری ہے۔ ذہنی سکون کے لئے قرآن مجید میں ارشاد کر دیا گیا ہے قرآنی قوانین کو مد نظر رکھ کر ہی ہم تقوی اختیار کر سکتے ہیں۔ جید عالم دین عبدالکریم پاریکھ کے پو تے ثاقب پاریکھ ( ناگپور ) نے قرآن کانفرنس کی اہمیت پر نظر ثانی کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کا پرچم بلند کرنے کے لئے قرآن کانفرنس خاص اہمیت کی حامل ہے۔ حقوق العباد پر زور دیتے ہوئے پاریکھ نے کہا کہ حق تلفی گناہ کبیرہ ہے چنانچہ دوستوں، پڑوسیوں، رشتہ داروں سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنا اشد ضروری ہے۔ تکبر، ہٹ دھرمی ، بے حیائی ، منکرانہ سوچ سے پرہیز کرنا اہم مدعا ہے۔ الحکمہ فا ونڈیشن کے بانی ڈاکٹر ضیا الدین نے والدین کے عزت و احترام کاذکرکرتے ہوئے کہا کہ نسل نو کو والدین کی طرف خاص توجہ مرکوز کرنا چاہیے۔