رسانہ عصمت ریزی و قتل کیس میں تازہ سماعت شروع

جموں //رسانہ عصمت ریزی و قتل کیس میں نابالغ ملزم کے حوالے سے جوینائل جسٹس بورڈ کٹھوعہ میں سماعت شروع ہوگئی ۔سماعت کے پہلے روز اس کیس کی تحقیقات کررہی کرائم برانچ نے نابالغ کو عدالت کے سامنے پیش کیاجو کرائم برانچ چارج شیٹ کے مطابق واقعہ کا اہم مجرم ہے ۔اس دوران عدالت نے کرائم برانچ کو شواہد پیش کرنے کا بھی کہا ۔کرائم برانچ کے مطابق اس نابالغ ملزم نے 8سالہ لڑکی کو جنوری 2018میں اغوا کیا اوردیگر 7مجرمان کے ساتھ مل کر اس کی عصمت ریزی کی اور پھر قتل کیا۔اگرچہ نابالغ کو عدالت کے سامنے پیش کیاگیاتاہم کرائم برانچ اس تعلق سے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی جس کے بعد جج نے اگلی سنوائی یعنی 29جولائی کو شواہد پیش کرنے کی ہدایت دی ۔دریں اثناء کرائم برانچ نے عدالت سے درخواست کی کہ سماعت کو موخر کیاجائے کیونکہ ملزم کی عمرکا معاملہ ابھی تک جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے ۔کرائم برانچ نے عدالت کو بتایاکہ اس کی طرف سے ہائی کورٹ میں نابالغ کی عمر کے حوالے سے ایک درخواست دی گئی ہے اورابھی تک اس کی عمر کاہائی کورٹ سے تعین نہیں ہوسکاہے ۔اس درخواست کے ذریعہ کرائم برانچ نے نابالغ کی عمر کو شواہد اور میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر چیلنج کیاہے جس میں بتایاگیاہے کہ ملزم نابالغ نہیںبلکہ بالغ ہے ۔تاہم مقامی عدالت نے سماعت موخر کرنے کی درخواست مسترد کردی اور کرائم برانچ کو ہدایت دی کہ وہ اگلی سنوائی کے روز شواہد پیش کرے ۔عدالت نے کہاکہ عمر کے ہائی کورٹ میں تعین ہونے تک عدالت میں سماعت مسلسل جاری رہ سکتی ہے ۔اس دوران عدالت نے دونوں طرف کے وکلاء کے دلائل سنے ۔