رام بن میں طلباء کااحتجاجی مظاہرہ | کہاسکول جاتے وقت گاڑیاں نہیں اٹھاتیں

زاہدبشیر
رام بن//رام بن میں گورنمنٹ ہائیر سکینڈری سکول کے طالب علموں نے احتجاج کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ چندرکوٹ پیڑا کے کم سے کم 150 طالب علم گورنمنٹ ہائیر سکینڈری اسکول رام بن میں زیرتعلیم ہیں لیکن سکول جاتیوقت کوئی بھی گاڑی والانہیں اٹھاتاہے چاہے وہ میٹاڈار والے ہوں یاآٹو والے۔ انہوں نے کہا صبح جب ہم سکول کی طرف آتے ہیں تو ہمیں پیدل دس کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے، اگر کوئی گاڑی بٹھا بھی لے گی تو ہمارے لئے سیٹ نہیں ہوتی ہے ہمیں دس کلو میٹر گاڑی میں کھڑا کھڑا رہنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہاکہ آٹو ڈرائیور دس کلو میٹر پر تیس روپے ایک آدمی سے کرایہ وصول کرتے ہیں جبکہ دس بارہ سواریاں بٹھا تے ہیں ان کے لیے ابھی تک کوئی بھی قانون نہیں بنا ہے جب ان سے اس بارے میں کچھ کہاجاتاہے تو آگے سے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں ۔سکولی بچوں کا کہنا ہے کہ آٹو ڈرائیور اسکولی بچوں سے ہی نہیں پورے لوگوں سے بھی دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں آٹو ڈرائیور صرف دو ہی طالب علم کو آٹو میں بٹھاتا ہے۔ سکولی بچوں نے احتجاج  کرتے ہوئے کہا کہ کیا اپنا حق مانگنا کوئی گناہ ہے اگر ہم اپنا حق مانگتے ہیں تو جموں و کشمیر پولیس لاٹھی چارج کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔سٹوڈنٹ کا یہ بھی کہنا ہے ہم ڈرنے والوں میں سے نہیں اگر ہمیں اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے گی ہم اس دیش کے لئے کر لیں گے لیکن جو دیش کے ساتھ غداری کرتے ہیں ہم ان لوگوں کے خلاف ہمیشہ لڑتے رہیں گے خاص کر سکول کی لڑکیاں بھی اس میں شامل تھی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں گھر میں بھی جاکر ڈانٹ پڑتی ہے اور سکول میں بھی آ کے کھڑا کھڑا رہنا پڑتا ہے جب کہ صبح دس بجے کے بعد سکول کا گیٹ بند ہو جاتا ہے اس لئے خاص ضلع انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ایک تو ہمارے گاؤں میں جو بچھڑے ہوئے سکول ہیں ان کو اپ گریڈ کیا جائے تاکہ ہم ہر سال مشکلات کا سامنا نے کرنا پڑ  چندرکوٹ میں ہائی سکول ہونے کے کارن اب ہمیں  رام بن کی طرح رخ کرنا پڑتا ہے دو سو تین سو بچے چندرکوٹ کے ہوکر جنرل کورٹ میں ہائی سکول کو ہرسیکنڈری کا درجہ نہ دینا انتظامیہ کی لاپروائی ہے۔ انہوں نے اپیل کی ہے کہ ضلع انتظامیہ جلد سے جلد آٹو ڈرائیورں۔ بس وغیرہ کو لسٹ لگانے کے لیے کہا جائے انتظامیہ ہمارے لئے ایک ایس آر ٹی سی بس دو وقت کے لیے  لگائی جائے صبح اور شام کوواپس آتے تاکہ ہماری پریشانیوں کاازالہ ہوسکے۔