رام بن میں بچی کے ساتھ مبینہ دست درازی کا واقعہ

سرینگر// رام بن میں گزشتہ دنوں ایک بچی کے ساتھ مبینہ دست درازی کے خلاف پیپلز الائنس نے احتجاج کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کا مطالبہ کیا۔پریس کالونی میں منگل کو بعد از دوپہر جموں کشمیر پیپلز الائنس کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بیئر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے،جن  پر’’مزید ظلم منظور نہیں‘‘ کے نعرے درج تھے۔اس موقعہ پر احتجاجی مطاہرین نے رام بن واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے میں ملوث ان افراد کو عوامی عدالت میں پیش کیا جانا چاہے،جو اس میں ملوث ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کھٹوعہ کے رسانہ علاقے میںبھی ایک بچی کی عصمت کو تار تار کیا گیا تھا اور اس کیس میں بھی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے پھرن پر پابندی عائد کرنے پر بھی  مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پھرن کشمیری لباس اور تہذیب کا حصہ ہے اور اس پر کسی کو بھی وار کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔