راشن گھاٹوں پر کھانڈ اور مٹی کا تیل نایاب | گاندربل کے بیشتر علاقوں میں صارفین برہم

گاندربل//گاندربل کے پہاڑی علاقوں میں صارفین نے راشن گھاٹوں پر کھانڈ اور مٹی کے تیل کی عدم فراہمی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برفباری سے قبل ان علاقوں میں کھانڈاورمٹی کا تیل سمیت دیگر اشیائے خوردنی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم زمینی سطح پر ایسا کچھ دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔لار،کنگن ،گنڈ اورگوٹلی باغ سمیت گاندربل کے دیگر پہاڑی علاقوں میں ہزاروں افراد پر مشتمل آبادی سردیوں کے موسم میں کھانا پکانے کے لئے مٹی کے تیل کا استعمال کرتے ہیں۔ ان علاقوں میں پسماندہ طبقات سے وابستہ افراد رہائش پذیر ہیں جن کیلئے رسوئی گیس سلنڈر کی قیمت ایک ہزار روپے سے زائد ہے جو انہیں خریدنا مشکل ہے ،اسلئے یہ لوگ زیادہ تر مٹی کا تیل ہی استعمال کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کے مطابق انہیں کھانڈ اور مٹی کا تیل پچھلے تین ماہ سے نہیں فراہم کی گئی جس کے نتیجے میںانہیںبازار سے مہنگے داموں یہ سب چیزیں خریدنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔گوٹلی باغ کے شہری منظور احمد خان نے بتایا کہ گاندربل کے مضافاتی علاقوں میں پسماندہ آبادی رہائش پذیر ہے جن کے لئے رسوئی گیس سلنڈریا مٹی کاتیل بازار سے خریدنا کافی مشکل ہے جبکہ ہر ماہ راشن کارڈ کے مطابق مٹی کاتیل اور کھانڈ آتا ہے ۔اس سلسلے میں محکمہ امور صارفین و تقسیم کاری کے اعلیٰ حکام نے کہا کہ سرکار کی جانب سے دسمبر، جنوری، فروری اور مارچ تک مفت چاول فراہم کیا جارہا ہے جو صارفین کو فراہم کیا جائے گا تاہم کھانڈ تین ماہ کے بعد سٹاک آتا ہے اور ہم اسی طرح تقسیم کرتے ہیں۔مٹی کے تیل کی بلیک مارکیٹنگ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ضلع میں موجود ڈیلروں سے اس بارے میں تفصیل حاصل کرکے ہی کچھ کہا جاسکتا ہے۔