راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پربحث کا جواب | ہندوستان میں اعلیٰ معاشی شرح نمو کے ساتھ مہنگائی پر قدغن:مودی

نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے منگل کو کہا کہ کورونا بحران کے باوجود، ہندوستان آج دنیا کی واحد بڑی معیشت ہے جس کی معاشی شرح نمواعلیٰ ہے اور مہنگائی نرم ہے جبکہ امریکہ میں مہنگائی 40 سال اور برطانیہ میں 30 سال کی بلند ترین سطح پر ہے ۔مسٹر مودی نے کہا کہ دنیا کے 19 ممالک میں جہاں یورو کرنسی چلتی ہے ، وہاں بھی مہنگائی کی شرح ‘تاریخی’ طور پربلند ترین سطح پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2014-20 تک ہندوستان میں مہنگائی کی شرح چار سے پانچ فیصد کے درمیان تھی جبکہ اس سے پہلے ترقی پسند اتحاد(یو پی اے ) کی حکومت کے دور میں یہ دوہرے ہندسے میں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مہنگائی کو ایک سطح پر قابو کرنے کی کوشش کی ہے ۔مسٹر مودی راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر تقریباً 11 گھنٹے تک جاری رہنے والی بحث کا جواب دے رہے تھے ۔اس دوران کانگریس پر تیکھے تبصروں کی مخالفت کرتے ہوئے اس پارٹی کے اراکین نے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔ وزیراعظم کے جواب کے بعد ایوان نے صدر کے خطاب پر صوتی ووٹ سے اپوزیشن کی تمام 99 ترامیم مسترد کرتے ہوئے شکریہ کی تحریک کو منظور کر لیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ آج دنیا کی تمام بڑی معیشتیں یا تو اعلیٰ مہنگائی کی شرح یا شرح نمو میں انحطاط کا سامنا کر رہی ہیں لیکن ہندوستان نے معیشت کا بہتر نظم کیا ہے ۔ انہوں نے کہا،‘ہندوستان واحد بڑی معیشت ہے جو بلند شرح نمو اور معتدل مہنگائی کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھنے میں کامیاب ہے ’۔مسٹر مودی نے کہا کہ کورونا بحران کے دوران ہندوستان میں مائیکرو،ا سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز (ایم ایس ایم) اور زراعت کے شعبے کو سب سے زیادہ توجہ دی گئی۔
 
 
 

NDAکو اپنا نام ’نو ڈیٹا ایولیبل‘کرلینا چاہئے :چدمبرم

نئی دہلی//یو این آئی// سابق وزیر خزانہ اور کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے منگل کو راجیہ سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے کانگریس کو اپنا نام تبدیل کرنے کے مشورے پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمراں اتحاد کو بھی اپنا نام بدل کر 'نو ڈیٹا ایولیبل' (این ڈی اے ) کرلینا چاہئے کیونکہ اس کے پاس کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں ہے ۔ایوان میں مالی سال 2022-23 کے عام بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے مسٹر چدمبرم نے حکومت پر غریبوں کو بھولنے کا الزام لگایا اور خبردار کیا کہ اگر صرف امیروں پر توجہ دی جائے گی تو غریب اسے کبھی نہیں بھول سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ پوری بجٹ تقریر میں غریب اور روزگار کے الفاظ بمشکل دو تین بار استعمال ہوئے ہیں۔ ملک میں بے روزگاری کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روزگار پیدا نہیں ہو رہا اور حکومت نے عوامی فلاح وبہبود کے تصور کو ہوا میں اڑا دیا ہے تو پھر یہ پیسہ کس کے لیے اکٹھا کیا جا رہا ہے ۔
 
 
 

علاحدہ زرعی بجٹ کی کوئی ضرورت نہیں: تومر

نئی دہلی//حکومت نے کل کہا کہ علاحدہ زرعی بجٹ بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ کسانوں اور زراعت کے مفادات میں کوئی کمی نہیں ہے اورآگے بھی نہیں ہو گی۔زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے یہاں لوک سبھا میں وقفہ سوال کے دوران ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ بجٹ ایک ہویا دو۔ بجٹ کی سمت ہونی چاہیے اورالتزامات ہونے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے ریلوے بجٹ الگ ہوا کرتا تھا لیکن اصلاحات کر کے ریلوے بجٹ کو عام بجٹ میں ضم کر دیا گیا۔ اس سے وقت بچا۔ ریلوے کے 60 سال کے علاحدہ بجٹ اور اب ریلوے کے سات سال کے التزامات کو دیکھیں تو زمین آسمان کا فرق ملے گا۔مسٹر تومر نے کہا کہ بجٹ کی کل رقم سے علاحدہ رقم ہو تو الگ بجٹ بنانے کی ضرورت ہے ۔ورنہ نہیں۔ حکومت کسانوں اور زراعت کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے ۔ 
 
 
 
 

کانگریس پارٹی اب اپنا نام بدل لے :مودی

نئی دہلی// وزیر اعظم نریندر مودی نے وفاقیت پر بار بار سوال اٹھانے پر کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنا نام 'انڈین نیشنل کانگریس' سے بدل کر'فیڈریشن آف کانگریس' رکھ لینا چاہیے ۔منگل کو ایوان بالا راجیہ سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک پر گیارہ گھنٹے طویل بحث کا جواب دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ کانگریس کو 'نیشن' پر اعتراض ہے یعنی 'نیشن' اس کے تصور میں غیر آئینی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس کو اپنا نام بدل کر 'فیڈریشن آف کانگریس' رکھ لینا چاہیے ۔جب کانگریس کے ارکان سخت احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکلنے لگے تو وزیر اعظم نے کہا کہ جمہوریت میں صرف سنانا ہی نہیں بلکہ سننا بھی ہے ۔ برسوں سے اُدیش دینے کی عادت کی وجہ سے کانگریس کو الفاظ سننے میں دقت محسوس ہورہی ہے ۔