راجوری میں ’تپ دق‘کے650 مریض، ستمبر میں اب تک 5 کا پتہ چلا علامتوں کی ابتدائی جانچ علاج معالجہ کیلئے انتہائی اہم :ڈاکٹر خالد منصور

سمت بھارگو
راجوری//سرحدی ضلع راجوری میں ’تپ دق‘کے اب تک 650مریضوں کا اندراج ہوا ہے جبکہ ستمبر ماہ میں ابھی تک 5مزید کیس سامنے آئے ہیں ۔بڑے پیمانے پر بیداری کی کوششوں اور مفت تشخیص کے ساتھ ساتھ علاج کے باوجودتپ دق کے انفیکشن کے پھیلاؤجاری ہے ۔کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب تفصیلات کے مطابق 20 ستمبر تک ضلع میں تپ دق کے 650 کیس ایکٹو کیس سامنے آئے ہیں اور یہ کیس ضلع کے تمام حصوں سے ہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ مختلف تکنیکوں کے ذریعے ضلع کے نامزد صحت اداروں بشمول ضلع ٹی بی ہسپتال راجوری کی جانب سے ان تمام کیسوں کا پتہ لگانے کیلئے کام کیاگیا ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ٹی بی انفیکشن کے ساتھ سرگرم زیادہ تر مریضوں کو بنیادی انفیکشن ہے جو عام طور پر سانس کی نالی تک محدود رہتا ہے۔حکام نے مزید بتایا کہ ستمبر کے مہینے میں اب تک انفیکشن کے 5 کیسز سامنے آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ راجوری ضلع کو تپ دق کے انتظام کے لئے راجوری، کنڈی، سندربنی، نوشہرہ اور کالاکوٹ کے راستے پانچ یونٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان پانچوں بلاکوں کے ایک سو سات نمونے ستمبر کے مہینے کے پہلے بیس دنوں میں ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔راجوری بلاک میں سے چار سو بتیس نمونوں کی جانچ کی گئی جبکہ راجوری بلاک میں درہال ،تھنہ منڈی، منجاکوٹ اور راجوری شامل ہیں ۔حکام کا مزید کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کا روزانہ ہدف پچاس سے ساٹھ کے درمیان ہے جس میں ٹیسٹ کیا جا رہا ہے وہ بھی مالیکیولر ٹیسٹنگ نوعیت کا ہے۔رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ تپ دق افسر راجوری ڈاکٹر خالد منصور نے بتایا کہ ضلع میں بہت سے بنیادی مراکز صحت کے ساتھ ساتھ کمیونٹی ہیلتھ سنٹرز تپ دق کے علاج کے ساتھ ساتھ تشخیص کے لئے نامزد ہیں جبکہ اہم ادارہ ضلع ٹی بی ہسپتال ہے ۔ضلع میں کیسز کی تعداد کے بارے میں پوچھے جانے پرڈاکٹر خالد نے کہا کہ اس کی واحد وجہ علامات کو لمبا کرنے کیلئے لوگوں کا دیر سے ردعمل ہے۔انہوں نے کہاکہ جب بھی کسی کو ٹی بی کی علامات ظاہر ہوں تو وہ فوری طور پر تپ دق کی تشخیص کیلئے مقرر کردہ ادارہ صحت میں رپورٹ کرے جہاں تھوک کے نمونوں کے ذریعے مفت تشخیص کی جاتی ہے اور تپ دق کا علاج بالکل مفت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ 500 روپے ماہانہ امداد بھی دی جاتی ہے۔موصوف نے ٹی بی کی علامات میں دو ہفتے سے زائد طویل کھانسی، بھوک نہ لگنا، وزن میں کمی، بے چینی، تھوک میں خون کا ذکر کیا۔ڈاکٹر موصوف نے بتایا کہ ’’جب بھی آپ میں ایسی کوئی علامت ہو تو صرف ہسپتال میں رپورٹ کریں اور تپ دق کی جانچ کیلئے اپنا ٹیسٹ کروائیں۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں ٹی بی کے کیسز اب بھی موجود ہونے کی واحد وجہ علامات کی طرف دیر سے دھیان دینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی جانب سے جلد ردعمل اور بروقت پتہ لگانے سے نہ صرف دوسرے لوگوں میں انفیکشن کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے بلکہ مریض کا علاج معالجہ بھی جلد شروع کیا جاسکتا ہے ۔ڈسٹرکٹ ٹی بی ہسپتال میں سہولیات کے حوالے سے ڈاکٹر خالد نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں تپ دق کی تشخیص اور علاج کیلئے تمام ضروری سہولیات موجود ہیں جن میں جدید ڈیجیٹل ایکسرے مشین، مالیکیولر ٹیسٹنگ سمیت مختلف اقسام کی ٹیسٹنگ مشینیں، ہر قسم کی ضروری ادویات شامل ہیں۔ڈاکٹر خالد نے مزید کہا کہ محکمہ آگاہی مہم شروع کرنے جا رہا ہے جس کی نوعیت جارحانہ ہوگی۔