ذہین تیماردار نے ڈرگ مافیا کا بھانڈا پھوڑ دیا

سرینگر //پولیس نے صدر اسپتال سرینگر میں مریضوں کو زائدالمعیاد ادویات فروخت کرنے کی پاداش میںدو ڈاکٹروں سمیت چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں صدر اسپتال کے ڈرگ سٹور کے انچارج بھی شامل ہے ۔ پولیس نے اگر چہ منگلوار کو دونوں ڈاکٹروں کو رہا کردیا مگر ڈرگ سٹور کے انچارج سمیت دو افراد ابھی بھی پولیس کی گرفت میں ہیں۔ صدر اسپتال سرینگر کے باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اسپتال میں قائم میڈیکل سٹور سے چار ماہ قبل زائدالمعیاد قرار دی جاچکی ادویات کو فروخت کیا جارہا تھا جسکی پاداش میں چند گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں ۔ ادھر پولیس نے اس حوالے سے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے زیر نگران کام کرنے والے صدر اسپتال سرینگر میں سوموار کو اسوقت مریض حیران و پریشان ہوکر رہ گئے جب ایک مریض کے تیماردار نے اسپتال کے میڈیکل سٹور سے فراہم کی جاننے والی زائدلمعیاد ادویات کے بارے میںبار کوڈ کے ذریعے پتا لگایا۔ ذرائع نے بتایا کہ صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سٹور میں چار ماہ قبل زائدالمعیاد قرار دی جاچکی ادویات کی لیببل پر expiry date تبدیل کی گئی تھی جبکہ دوائی پر موجود  بار کوڈ(Bar Code) سے یہ بار صاف طور پر واضح ہورہی تھی کہ مریضوں کو فراہم کی گئی ادویات زائدالمعیاد ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ اسپتال میں سی ٹی اسکین کرانے کے وقت مریضوں کو Iopodimol (100ml) کی  30سے  40شیشیاں روزانہ ڈرگ کونٹر سے مریضوں کو خریدنی ہوتی ہیں جبکہ سی ٹی سکین کراتے وقت صرف 8سے  10شیشاں ہی استعمال ہوتی ہیں جبکہ باقی ماندہ شیشیوں کو پھر سے واپس ڈرگ سٹور پہنچادیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈرگ سٹور سے کئی زائدالمیعاد ادویات کو مریضوں کو فروخت کیا جاتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایک تیماردار نے بڑی ہوشیاری کا مظاہرہ کرکے بار کورڈ کے ذرئعہIopodimol (100ml) نامی ادویات کے معیاد ختم ہونے کی تاریخ کا پتہ لگایا تو بار کورڈ سے معلوم ہوا کہ ا س دوائی کی معیاد مارچ  2018میں ختم ہوچکی ہے۔ صدر اسپتال سرینگر کے میڈیکل سٹور پر چھاپہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایس ایچ او مسیر اصغر نے کہا’’سوموار کوصدر اسپتال میڈیکل سٹور سے ایک نوجوان تیماردار نے پولیس اسٹیشن آکر ہمارے پاس تحریری طور پر شکایت درج کرائی کہ اسپتال کے میڈیکل سٹور سے مریضوں کو زائدالمیعاد ادویات فروخت کی جارہی ہے۔‘‘ ایس ایچ او نے بتایا ’’ ادویات کی لیبل پر معیاد ختم ہونے کی تاریخ ایک لکھی ہوئی تھی مگر ایک ہوشیار تیماردار نے بار کورڈ کے ذریعے دوائی کی معیاد ختم ہونے کی تاریخ کا پتا لگایا تو معلوم ہوا کہ کئی ادویات کی معیاد چار ماہ قبل ہی ختم ہوچکی ہے تاہم اسکے بائوجود بھی اسپتال کے میڈیکل سٹور سے یہ ادویات لوگوں کو فراہم کی جارہیں تھیں۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ پولیس نے شکایت ملتی ہے کہ وہاں جاکر ادویات کو ضبط کیا اوراس حوالے سے ایک ایف آئی آر زیر نمبر 23/2018زیر دفعہ 420کے تحت درج کرکے تحقیقات شروع کردی ۔ مذکورہ پولیس آفیسرنے بتایا کہ پولیس نے ڈرگ سٹور کے انچارج کو گرفتار کیا ہے اور ادویات فروخت کرنے والی کمپنی کے مالک کو بھی طلب کیا ہے۔ ادھر پرنسپل گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈاکٹر سامیہ رشید نے دو افراد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ’’ اصل میں یہ غلطی کمپنی کی ہے ۔ دوائی پر معیاد ختم ہونے کی تاریخ 2020لکھی ہوئی تھی جبکہ بار کورڈ پر ادویات کے معیاد ختم ہونے کی تاریخ مارچ 2018لکھی ہوئی ہے۔ ‘‘ ڈاکٹر سامیہ رشید نے کہا کہ ایک تیماردار نے بار کورڈ کے ذریعے دوائی کے معیاد ختم ہونے کی تاریخ پتہ کی تھی ۔ ڈاکٹر ثامیہ رشید نے بتایا کہ مذکورہ نوجوان نے کسی موبائل Appکے ذرائع بار کورڈ سے معیاد ختم ہونے کی تاریخ کا پتہ کیا ۔ ڈاکٹر ثامیہ رشید نے بتایا ’’ مذکورہ موبائل ایپ کے بارے میں ہمیں بھی کچھ پتہ نہیں ہے۔ ڈاکٹر ثامیہ رشید نے کہا کہ پولیس نے شکایت ملتے ہی دو ڈاکٹروں سمیت چار افراد کو حراست میں لیا  ۔ ڈاکٹر ثامیہ رشید نے کہا کہ کمپنی نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے کہ بار کورڈ میں غلطی ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پولیس کو کمپنی کے غلطی کی اطلاع دی ہے جس کے بعد دو ڈاکٹروں کو رہا کیا گیا ہے تاہم ڈرگ سٹور کے انچارج سمیت 2افراد ابھی بھی پولیس کی گرفت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ معاملہ ریاستی پولیس کے اعلیٰ افسران کے علاوہ ڈی سی سرینگر اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈرگ مافیہ بھی کام کررہا ہے جو نہیں چاہتے ہیں کہ اسپتال کا ڈرگ سٹور کام کریں۔ واضح رہے کہ Iopodimol (100ml) کی دوائی سی ٹی سکین کیلئے استعمال ہوتی ہے ۔