دہلی میں چلچلاتی گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے|| پارہ 52ڈگری سے متجاوز جموں میں ابتک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 44.8 ڈگری ریکارڈ

 یو این آئی

نئی دہلی// راجدھانی دہلی میں بدھ (29 مئی) کو گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے اور تاریخ میں پہلی بار درجہ حرارت 52 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق دہلی کے علاقہ منگیش پور میں دوپہراڈھائی بجے 52.3 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات نے بدھ کو کہا کہ شمال مغربی اور وسطی ہندوستان میں گرمی کی لہر سے لے کر شدید گرمی کی لہر تک کے حالات 30 مئی سے بتدریج کم ہونے کا امکان ہے۔ 31 مئی کو پنجاب، ہریانہ، چندی گڑھ دہلی کے کچھ حصوں میں گرمی کی لہر سے لے کر شدید گرمی کی لہر کا امکان ہے۔اس کے علاوہ مغربی اتر پردیش، راجستھان، مدھیہ پردیش، بہار اور جھارکھنڈ کے مختلف حصوں میں گرمی کی لہر کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے کہا کہ یکم جون 2024 کو پنجاب، ہریانہ، چنڈی گڑھ،دہلی، مدھیہ پردیش، بہار اور جھارکھنڈ کے مختلف حصوں میں گرمی کی لہر متوقع ہے۔ تاہم گرمی کی لہر کے اثر میں کمی ہو سکتی ہے۔صبح ساڑھے 8 بجے ہوا میں نمی کی سطح 43 فیصد تھی۔ اس سے قبل منگل (28 مئی) کو قومی راجدھانی میں بہت شدید گرمی دیکھی گئی اور دہلی میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیس کے قریب پہنچ گیا۔محکمہ موسمیات نے لوگوں کو گرمی کی لہر سے بچنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کی وجہ سے ہر عمر کے لوگوں کو گرمی سے متعلق بیماری اور ہیٹ اسٹروک کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بچوں، بوڑھوں اور سنگین بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے صحت کے حوالے سے انتہائی تشویشناک بات ہے۔ آئی ایم ڈی نے لوگوں کو گرمی اور پانی کی کمی سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ دوسری طرف، چلچلاتی گرمی کے درمیان دہلی میں بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 8302 میگاواٹ کی اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
جموں و کشمیر
جموں میں پارہ بتدریج بڑھ رہا ہے۔ جموں شہر میں بدھ کو موسم کا سب سے زیادہ درجہ حرارت 44.8 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ یہ خطہ گزشتہ ہفتے سے شدید گرمی کی لہر کی زد میں ہے، 16 مئی سے درجہ حرارت مسلسل 40 ڈگری سیلسیس سے اوپر جا رہا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ کٹرہ، میں 40 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ لیہہ شہر میں 21 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہوا۔محکمہ کے مطابق کٹھوعہ میں46.1 ڈگری، اس کے بعد سانبہ میں 44.7 ، ادھم پور میں 42 اور ریاسی میں 41.7 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔سرینگر کا دن کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32.6 ڈگری سیلسیس تھا۔ادھرمحکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں اگلے چار دنوں کے دوران لوگوں کو جھلستی گرمی سے کسی حد تک راحت ملنے کی پیش گوئی کی ہے تاہم صوبہ جموں کے میدانی علاقوں میں اگلے 7 دنوں کے دوران گرمی کی لہرجاری رہنے کا امکان ہے ۔ وادی میں 29 مئی کو کہیں کہیں اور بعد ازاں 30 اور 31 کو مطلع مجموعی ابر آلود رہنے کے ساتھ ہلکی بارشیں متوقع ہیں۔ یکم اور 2 جون کو بھی کچھ مقامات پر ہلکی بارشیں ہوسکتیں ہیں جبکہ 3 اور 4 جون کو بھی ہلکی بارشوں کا امکان ہے ۔ترجمان نے بتایا کہ بعد ازاں وادی میں 7 جون تک موسم مجموعی طور پر خشک رہ سکتا ہے۔محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا کہ صوبہ جموں کے میدانی علاقوں میں اگلے 7 دنوں کے دوران گرمی سے راحت ملنے کی کوئی امید نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں میں 3 جون سے ہیٹ ویو کا دوسرا مرحلہ شروع ہوسکتا ہے ۔