دفعہ 370 کے خاتمہ کے بعد لوگوں کی سیاسی سوچ میں مثبت تبدیلی آئی:چگ | کہالوگ عبداللہ اور مفتی خاندانوں کی استحصالی سیاست کی حقیقت جان چکے ہیں

 کشتواڑ//بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری اور جموں و کشمیر کے انچارج ترون چگ نے جمعرات کو کہا کہ کشمیر فائلز فلم نے 1990کی دہائی میں کشمیر میں ایک منصوبہ بند نسل کشی کے سانحہ کو ہم وطنوں کے سامنے پیش کیا ہے۔ کشتواڑ میں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائدین اور انتظامیہ، جن کی ذمہ داری اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا تھی، نے مزید بندوق برداروں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ۔چگ نے مزید کہا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں 1990 کی دہائی میں کئی بار ہندوں کا قتل عام کیا گیا تھا۔ "جنگجوئوں نے 3ماہ کی ہندو بیٹی سے لے کر بزرگوں کو بھی گولی مار دی۔ پورے ہندو شادی کے باراتیوں کو قتل کرکے دلہن کو لے جایا گیا، خواتین کی چھاتیاں کاٹ دی گئیں اور بھائی کا جگر نکال دیا گیا جو انسانیت پر ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ ترون چگ نے کہا کہ ملک بھر میں ایک طبقہ اسی طرح کے واقعات کو چھپا رہا ہے اور نسل کشی کرنے والے عسکریت پسندوں کو "آزادی کے لیے لڑنے والے معصوم نوجوانوں کے طور پر پیش کر رہے ہیں جبکہ انہیں ریڈ کارپٹ، وی وی آئی پی ٹریٹمنٹ، بریانی اور پیسے مل رہے ہیں اور یہ رجحان آج بھی کچھ تعلیمی اداروں میں جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ مفتی اور عبداللہ خاندانوں نے کبھی شاہد کے نام پر شدت پسندوں کو گمراہ کیا، کبھی خود مختاری کے نام پر اور کبھی 1952 کے اسٹیٹس کو نافذ کرنے کے نام پر جو پاکستان چین کے نام پر اب بھی وہاں کام کر رہے ہیں۔ لیکن خوش قسمتی سے ملک میں پی ایم مودی کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت ہے جو ان کے مذموم منصوبوں کو پورا نہیں ہونے دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام عبداللہ مفتی خاندان کی حقیقت جان چکے ہیں کہ ان خاندانوں نے گزشتہ چھ دہائیوں سے کشمیریوں کا کس طرح استحصال کیا ہے۔ اس خاندان نے نہ تو جموں و کشمیر کے لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کیں اور نہ ہی اپنی سیاست کو پروان چڑھانے کے لیے ریاست میں آباد دلت اور دیگر پسماندہ طبقات کے لوگوں کا بلا کیا ۔قومی جنرل سیکریٹری کا مزید کہنا تھا کہ اس بار کشمیر میں سیاسی ماحول بدل گیا ہے۔ آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کے بعد جموں و کشمیر کے لوگوں کو مرکزی حکومت کی اسکیموں کا فائدہ ملنا شروع ہو گیا ہے۔ ریاستی اور مرکزی حکومت کے ہزاروں ملازمین مرکزی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ تنخواہ اور دیگر سہولیات حاصل کر رہے ہیں ۔