دفعہ 370کی منسوخی زیر غور نہیں

  مذاکرات کے دروازے کھلے،امن کی خواہش رکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی:اہیر

 نئی دہلی//جموں وکشمیر میںقیام ِ امن کو اپنی اوّلین ترجیح قرار دیتے ہوئے مرکزی سرکار نے کہا ہے کہ فی الوقت دفعہ 370کی منسوخی کی کوئی تجویز زیرغور نہیںہے۔امور داخلہ کے وزیر مملکت ہنس راج گنگا رام اہیرنے تشدد کا راستہ ترک کرنے والوں کیلئے مذاکرات کے دروازے کھلے ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکاراُن پالیسیوں کی حوصلہ افزائی کرتی رہے گی،جن کا مقصد نوجوانوں کو واپس’قومی دھارے‘ میںلانا ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان زریں یعنی لوک سبھا میںحکمران جماعت بی جے پی کے رُکن اشونی کمار نے  ایک تحریری سوال کے ذریعے مرکزی سرکار سے یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ آیا حکومت آئین ہند کی دفعہ370کو واپس لینے کا ارادہ رکھتی ہے اور کیا ایسے کسی منصوبے پر کام ہورہا ہے؟سوال کے جواب میں امور داخلہ کے مرکزی وزیر مملکت نے ایوان میں واضح الفاظ میں کہاکہ جموں وکشمیر کو خصوصی درجہ دینے والی اس دفعہ(دفعہ370)کو فی الوقت منسوخ کرنے کی کوئی تجویزمرکزی حکومت کے زیر غور نہیںہے۔لوک سبھا میں پوچھے گئے ایک اور تحریری سوال کے جواب میں ہنس راج گنگا رام نے کہا ’’حکومت ہند نے جموں وکشمیر کیلئے دنیشور شرما کو اپنا خصوصی نمائندہ مقررکیا ہے تاکہ جموں وکشمیر میں منتخب نمائندوں،مختلف انجمنوں اور سماج کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے وابستہ افراد کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا جاسکے اور بات چیت کے عمل کو آگے بڑھایا جاسکے‘‘۔انہوں نے کہا کہ مرکزی مذاکرات کار دنیشور شرما نے حال ہی میں سرحدی علاقوں کا تفصیلی دورہ کیا اور سیز فائر خلاف ورزیوں کے پیش نظر سرحدی علاقوں میںرہائش پزیر لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کئی تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ دنیشور شرما نے جو تجاویز پیش کی ہیں، ان میں سرحدی علاقوں میں رہائش پزیر لوگوں کی منتقلی اور پختہ بنکروں کی تعمیر بھی شامل ہیں۔لوک سبھا میں اپوزیشن کانگریس کے ارکان جیوتی رادیتیاسچندااور گوروگوگوئی نے تحریری سوال کے ذریعے یہ جاننا چاہا تھا کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی فوج کی فائرنگ اور مارٹر شلنگ سے عام لوگوںکومحفوظ رکھنے کیلئے حکومت نے کونسے اقدامات اُٹھائے ہیںانہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت ریاست جموں وکشمیر میں امن کے قیام کی متمنی ہے اور چاہتی ہے کہ جموں وکشمیر میں امن لوٹ آئے۔انہوں نے کہا’’حکومت جموں وکشمیر میںتشدد کا راستہ کرنے والے کسی بھی طبقہ یا گروپ کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ تشدد کے راستے کو خیرباد کہنے والوں کیلئے مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہیں گے کیونکہ حکومت جموںوکشمیر میں امن کی بحالی اور تیزترقی کی خواہاںہے۔انہوںنے کہا’’مرکز ی سرکار اُن پالیسیوں کی حوصلہ افزائی کرے گی، جن کا مقصد نوجوانوںکو واپس قومی دھارے میں لانا ہوں‘‘۔انہوںنے مزید کہا’’حکومت ان پالیسیوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کررہی ہے،جنہیں جموں وکشمیر میں نوجوانوںکو مین اسٹریم میںواپس لانے کیلئے ترتیب دیا گیا ہے۔ان میںنوجوانوں کو ملی ٹینسی کے راستے سے دوررکھنے کیلئے روزگار کے مواقعے فراہم کرنا بھی شامل ہیں‘‘۔