دفعہ 370اور35اے کا جائزہ لینے کی ضرورت

 
نئی دہلی//مرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ دفعہ 370 اور 35اے ،جوریاست جموں کشمیر کو آئین میں خاص درجہ دیتے ہیں، کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا ان دفعات سے تشدد سے متاثرہ ریاست کو فائدہ پہنچا ہے یانقصان ہواہے۔سنگھ کا یہ بیان بی جے پی کے اس موقف کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جس میں پارٹی نے اپنے چنائو منشور میں آئین کی ان دونوں دفعات370اور 35A کوختم کرنے کا عہد کیا ہے ۔ بھاجپاصدر امت شاہ لوک سبھاانتخابات کی مہم کے دوران بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ ان دفعات کو ختم کیاجائے گا۔ وزیرداخلہ نے یہ بھی کہا کہ جموں کشمیراسمبلی کاچنائو منعقد کرانے کا فیصلہ الیکشن کمیشن کے اختیار میں ہے لیکن انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا کہ اس سلسلے میں فیصلہ کا اعلان لوک سبھاانتخابات مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ حال ہی میںسنگھ نے ایک انٹرویوکے دوران ایک سوال کہ کیا بھاجپا کاخیال ہے کہ آئین کی دفعہ 370 کوہٹانے سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں مدد ملے گی، کے جواب میںاِسے مقابلے سے تعبیر کیاتھا۔راج ناتھ سنگھ جوبھاجپا کی منشور کمیٹی کے چیئرمین بھی تھے ،نے کہا ’’کشمیر ایک چیلنج ہے اور اُس کا جلد ی حل نکلے گا‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دفعہ 370 اور 35A کوہٹانے سے مسئلہ کاحل نکل آئے گا،توانہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا دفعہ 370 اور 35A سے ریاست کا فائدہ ہوا ہے یا نقصان۔ راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان ایک اور بی جے پی رہنما نتن گڈکری کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ بھاجپا دفعہ370کو ختم کرنے کیلئے وعدہ بند ہے۔ گڈکری نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویوکے دوران یہاں تک کہا کہ نازک صورتحال کی وجہ سے اس پر (دفعہ 370 کو ہٹانے) عملدرآمد مناسب نہیں ہے۔اس وقت ہم مکمل اکثریت میں تھے تب بھی ہم نے یہ نہیں کیا،تاہم جہاں تک پارٹی کے فلسفے ،پالیسی اور طریقہ کارکاتعلق ہے ہم اس پرڈٹے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ ریاستی اسمبلی کے انتخابات کب ہوں گے ،سنگھ نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ چنائو ہونے چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی چنائو کیلئے حفاظتی دستوں کی کثیرتعداد کی تعیناتی لازمی ہے اور اس وقت دیگر ریاستوں میں لوک سبھا انتخابات کیلئے فورسزکی تعیناتی کی ضرورت تھی ۔اب جبکہ پارلیمانی چنائو مکمل ہونے کو ہیں،الیکشن کمیشن تاریخیں طے کرسکتا ہے۔