دربار مودفاتر4مئی کو کھلیںگے

جے کے بینک، ٹریجریاں اور ڈسپنسریاں دونوں جگہ کام کرینگی

 
جموں //حکومت نے سالانہ دربار مو کا اعلان کردیاہے تاہم اس مرتبہ کورونا وائرس کے پیش نظر جموں اور سرینگر دونوں جگہوں سے ایک ساتھ کام ہوگا اور ملازمین کو بھی خطوں کے درمیان تقسیم کیاگیاہے ۔جہاں کشمیر خطہ کے ملازمین سرینگر کام کریںگے تووہیں جموں خطہ کے ملازمین کو جموں میں رکھاگیاہے ۔تاہم15جون کو اس سلسلے میں جاری ہونے والے حکمنامہ کا جائزہ لیاجائے گا۔محکمہ عمومی انتظامی کے سیکریٹری فاروق لون کی طرف سے جاری ہونے والے حکمنامہ میں سالانہ دربار مو کا اعلان کیاگیاہے اور اس کے مطابق سیول سیکریٹریٹ اوراس سے منسلک دفاتر سرینگر میں 4مئی کو کھلیں گے ۔ دفاتر کیلئے وقت صبح ساڑھے 9بجے سے لیکر شام ساڑھے 5بجے تک کا ہے ۔فاروق لون کے مطابق انتظامی سیکریٹری اس بات کو یقینی بنائیںگے کہ محکمہ جات دونوں جگہوں یعنی سرینگر اور جموں میں کام کریں ۔اسی طرح کے انتظامات محکمہ جات کے سربراہان بھی کریںگے ۔ حکمنامہ کے مطابق سیول سیکریٹریٹ ٹریجری اور جموں وکشمیر موونگ برانچ ایک ساتھ دونوں جگہ کام کرے گی اوراس کیلئے محکمہ خزانہ مناسب میکانزم تیار رکھے گا۔اسی طرح سے سیول سیکریٹریٹ ڈسپنسری بھی دونوں جگہوں سے کام کرے گی ۔ حکمنامہ کے ذریعہ کشمیر صوبہ کے ملازمین سے کہاگیاہے کہ وہ جموں سے کشمیر منتقلی کیلئے محکمہ عمومی انتظامی سے رابطہ کریں اور انہیں ایس آر ٹی سی بس سروس فراہم کی جائے گی ۔ یہ ٹرانسپورٹ سہولت 25اور26اپریل کو فراہم رہے گی ۔اسی طرح سے محکمہ ایسٹیٹ ضرورت کے مطابق ملازمین کو اقامتی سہولیات فراہم کرے گا اورملازمین کو راشن ایک جگہ جموں یا سرینگر میں ملے گا۔سیول سیکریٹریٹ ملازمین ہفتے میں چھ روز کام کریں گے ۔
 

ایڈوانس پارٹی کا ذکر نہ موالائونس کا

جموں //اس بار دربار مو کے سلسلے میں جاری ہونے والے حکمنامہ میں نہ ہی ایڈوانس پارٹی اور نہ ہی مو الائونس کا ذکر کیاگیاہے ۔دربار کے ساتھ منسلک ملازمین کودربار منتقلی کے وقت 25ہزار روپے موالائونس ملتاہے لیکن اس حکمنامہ میں اس کا ذکر نہیں کیاگیا۔ ایک ملازم نے بتایا’’ہم نے کوئی بھی ریکارڈ سرینگر منتقل نہیں کیا اور ریکارڈ کے بغیر کام کرنا ممکن نہیں ہے ، اس وقت سارا سرکاری ریکارڈ جموں میں ہی ہے ‘‘۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہاکہ وہ سرینگر میں ریکارڈ کے بغیر کیا کام کریں گے ۔دربار مو کے دو جگہوں پر ایک ساتھ کام کرنے کے اعلان پر ملازمین میں یہ تشویش پیدا ہوئی ہے کہ کہیں سابق ریاست جموں وکشمیر کی طرح دربار مو کو بھی تو تقسیم نہیں کردیاگیا۔