خصوصی پوزیشن کا خاتمہ الحاق کے خاتمے کا باعث:محبوبہ

 شیری بارہمولہ// دفعہ370 اوراے 35 کو اگر ختم کیا گیا تو جموں کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ الحاق بھی نہیں رہے گا بلکہ ہندوستان قابض ملک تصور کیا جائے گا ۔اور میں اُس وقت پہلی خاتون ہونگی جو ہندوستان کو یہاں سے بھاگنے کو کہے گی ۔سابق وزیر علیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ نیشنل ہائی وے پر دو دنوں کیلئے پابندی لگانا ایک غلط فیصلہ ہے اور ایک تانا شاہی حکم ہے جس کے خلاف ہم آواز اٹھائیں گے اور ریاست گیر احتجاجی مہم چھڑیں گے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ  نیشنل کانفرنس کو  الیکشن  میں ہی صدر ریاست اور وزیر عظم کے عہدے یاد آتے ہیں جو لوگوں کے ساتھ کھلے عام دھوکہ بازی ہے ۔  شیری بارہمولہ میں جمعرات کو محبوبہ مفتی نے ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'امت شاہ کہتے ہیں کہ ہم دفعہ 370 کو 2020میں ختم کریں گے۔ امت شاہ صاحب محبوبہ مفتی آپ سے کہہ رہی ہے جس دن آپ دفعہ 370 کو ختم کرو گے آپ جموں وکشمیر میں ناجائز قبضہ کرنے والی طاقت بنو گے۔ آپ کا جموں وکشمیر پر کوئی حق نہیں رہے گا'۔انہوں نے کہا 'بی جے پی صدر نے کہا ہے کہ ہم نے افسپا کو ختم ہونے سے بچانے کے لئے جموں وکشمیر میں حکومت ختم کی۔ امت شاہ صاحب آپ بھول گئے ہیں، دو ماہ تک آپ لوگوں نے مفتی صاحب کے پائوں پکڑے اور گذارش کرتے رہے کہ ہمارے ساتھ ساتھ حکومت بنائو'۔ان کا مزید کہنا تھا 'مفتی صاحب نے شرطیں رکھیں۔ آپ نے دفعہ 370 کی حفاظت کی شرط مان لی۔ آپ نے افسپا ختم کرنے کی شرط پر بھی ہاں کہہ دی۔ پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر بھی آپ نے مان لی۔ حریت سے بات چیت کی شرط پر بھی آپ نے مان لی۔ آپ نے جموں وکشمیر کے پاور پروجیکٹس کو واپس کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کردی۔ اگر اُس وقت ہاں تو آج نا کیوں؟ آج آپ کیسے کہتے ہو کہ ہم دفعہ 370 کو ختم کریں گے'۔دریں اثنا محبوبہ مفتی نے کہا کہ نئی دہلی کوکشمیر ی نہیں بلکہ کشمیر کی زمین چاہئے۔سری نگر۔ جموں قومی شاہراہ کو ہفتے میں دو دن بند رکھنے کے حکومتی فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے نامنہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ قومی شاہرہ پر سول ٹریفک پر پابندی ایک تانہ شاہی حکم ہے جس کے خلاف ہم آواز اٹھائیں گے اور ریاست گیر میں احتجاجی مہم چھڑیں گے۔ انہوںنے نیشنل کانفرنس پر نشانے سادھتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کو انتخابات میں ہی صدر ریاست اور وزیر عظم کے عہدے یاد آتے ہیں جو لوگوں کے ساتھ کھلے عام دھوکہ بازی ہے ۔