خاندانی راج سے چھٹکارا پایا جائے:سجاد

سرینگر // پیپلز کانفرنس چیئر مین سجاد غنی لون نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ خاندانی راج سے چھٹکارا پایا جائے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ریاست کی کلہم ترقی اور لوگوں کو با اختیار بنانے کیلئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ خاندانی راج کو ختم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی دوسرے مخالفین پر تہمت لگانے کی ایک تاریخ رہی ہے، جب عبداللہ خاندان کے باہر کوئی شخص لوگوں کی خواہشوں کی ترجمانی کرے تو ساری لیڈر شپ الزامات لگانے پر دوڑتی ہے حتیٰ کہ قتل کرنے کیلئے بھی اکساتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح  کے حربوں سے ماضی میں کئی لوگ مارے گئے اور اب وہ دوبارہ اسی طرح کررہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی پر لگائی گئی پابندی فوری طور اٹھائی جانی چاہیے کیونکہ خیالات کو ہم قید نہیں کرسکتے اور یہ جمہوری عمل کیلئے بھی موزون ہے۔انکا کہنا تھا’’ جماعت اسلامی پر پابندی جمہوری عمل کو زک پہنچانے کے مترادف ہے اور اس طرح وادی میں مفاہمت اور امن کے قیام کیلئے جگہ تنگ ہوگی۔مرکزی سرکار نے وادی میں امن قائم کرنے کے موثر اقدامات اٹھانے کے برعکس وادی کا محاصرہ کر کے مخالف خیالات اور سیاسی نظیہ رکھنے والوں کیخلاف ہی کارروائی شروع کی ہے حالانکہ جمہورہت میں سب اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا آئینی حق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا  کہ ماضی میں بھی ایسے اقدامات ناکام ہوئے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ 1987کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی نے جماعت کو مین سٹریم سیاست سے علیحدگی پسند سیاسی حلقے میں تبدیل کیا، اور اب 32برسوں کے بعد آپ متاثریں کو ایک بار پھر سزا دے رہے ہیں، حالانکہ سزا انتخابی دھاندلی کرنے والوں کو دی جانی چاہیے تھی، جنہیں ابھی بھیحوصلہ دیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک 1987کے انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کو سزا نہیں دی جاتی حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔