حکومت پر سی بی آئی کے غلط استعمال کا الزام

نئی دہلی//حکومت پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے اپوزیشن نے آج راجیہ سبھا میں زبردست ہنگامہ کیا جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی چار بار ملتوی ہونے کے بعد دن بھر کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کا آج آخری دن تھا لیکن ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے کارروائی غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کرنے کے بجائے بدھ کی صبح 11 بجے تک ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس سے ایوان کے رکن دنگ رہ گئے اور وہ ایوان سے باہر جانے کے بجائے وہیں بیٹھے رہے ۔ اس سے پہلے ، حزب اختلاف کے اراکین کے ہنگامہ کی وجہ سے پورے دن میں کوئی کام نہیں کیا جا سکا۔ تین بار ملتوی ہونے کے بعد جب کاروائی تین بجے دوبارہ شروع ہوئی تو مسٹر ہری ونش نے صحت و خاندانی بہبود کے وزیر پرکاش نڈا سے انڈین میڈیکل کونسل سے متعلق آرڈیننس کی جگہ بل پیش کرنے کو کہا۔ اسی دوران سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس، کانگریس اور راشٹریہ جنتا دل کے رکن نشست گاہ کے قریب آکر نعرے بازی کرنے لگے ۔ بائیں بازو، ڈی ایم کے اور بہو جن سماج پارٹی کے ارکان اپنی جگہوں میں کھڑے تھے ۔ مسٹر ہری ونش نے نشست گاہ کے قریب اراکین کو نعرے بازی بند کرکے اپنی جگہوں پر واپس آنے کے لئے کہا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں دو اہم آرڈیننس کی جگہ بل لائے جانے ہیں اور پہلے بل پر حکومت اور اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں رضامندی کی بنیاد پر ہی بحث کرائی جا رہی ہے ۔ مسٹر نڈا نے ہنگامے کے درمیان ہی بحث کے لئے بل پیش کیا جس کے بعد ڈپٹی چیئرمین نے بحث شروع کرنے کے لئے ارکان کے نام پکارنے شروع کیے ۔ بی جے پی کے ڈی ڈی پی وتس نے ہنگامے کے دوران اپنی بات پیش کی لیکن شور کی وجہ سے کچھ بھی نہیں سنا جاسکا۔ اس کے بعد ڈپٹی چیرمین نے سی پی آئی (ایم) کے کے کے راگیش کا نام پکارا ۔مسٹر راگیش نے کہا کہ ایوان میں نظم ضبط کے بغیر، وہ بات نہیں کر سکتے ے ۔ مسٹر ہری ونش نے شور کرنے والے ارکان سے خاموش ہونے کی ایک بار پھر اپیل کی لیکن اس کا اثر ہوتانہ دیکھ کر انہوں نے تین بجکر آٹھ منٹ پر ایوان کی کارروائی ساڑھے تین بجے تک کے لئے ملتوی کر دی۔