حکام بحران حل کرنے میں سنجیدہ نہیں

نیوز ڈیسک
  سرینگر//نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں اس وقت بجلی کا جو بحران ہے ایسا گذشتہ تین 4دہائیوں میں نہیں دیکھا گیا ہے۔ شمال و جنوب میں بجلی کا بحران ہے اور متعلقہ حکام اس سنگین صورتحال سے لاتعلق نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب بھی بجلی کی سپلائی کو لیکر کوئی مسئلہ اُجاگر کیاجاتا تھا اس پرمتعلقہ حکام فوراً نوٹس لیکر اس کا تدارک کرتے تھے لیکن آج ایسا بالکل نہیں، متعلقہ حکام نے بجلی کے بحران سے مکمل لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے۔ مسعودی نے کہاکہ باہری ریاستوں میں ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں مل رہاہے بلکہ بہت ساری ریاستوں میں صارفین کے بقایا جات معاف کئے جارہے ہیں اور 300 سے 400یونٹ بجلی مفت فراہم کی جارہی ہے لیکن یہاں کا نظام اس کے عین برعکس ہیں۔ یہاں صارفین کو زبردستی نئے اگریمنٹ کرائے جارہے ہیں اور بقایاجات سود سمیت وصولے جارے ہیں اور بجلی فیس میں بھی اضافہ کیا جارہاہے ،اس کے باوجود بھی بجلی کہیں نہیں ہے۔ محکمہ کو کم از کم ماہ مقدس کے دوران سحری ، افطار اور تراویح کے وقت بجلی کی سپلائی یقینی بنانے کیلئے پہلے ہی اقدامات اٹھانے چاہئے تھے۔ حسنین مسعودی نے کہاکہ بجلی کے بحران کا اثر اب براہ راست آبپاشی پر بھی پڑا ہے اور کسانوں کو صرف2گھنٹے کیلئے پانی کی فراہمی کی جارہی ہے ، اور یہ محدود سپلائی زمینوںکو سیراب کرنے کیلئے بہت کم پڑرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مشکلات میں مزید اضافہ ہونے کا قوی اندیشہ ہے ، جس سے یہاں کی زراعت پر بہت برا اثر پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس بحران کی طرف بروقت توجہ مرکوز نہیں کی گئی تو آنے والے ایام میں یہاں کے زرعی شعبے کو زبردست چیلنج کا سامناہوگا۔