حلیم اور مشفقانہ مزاج کے مالک

 سرینگر // ہزاروں بچوں کا علاج ومعالجہ کرنے والے ریاست کے معروف معالج اطفال ڈاکٹر دلجیت سنگھ انتقال کر گئے۔ 79سالہ دلجیت سنگھ کا 20روز قبل گورگائوں کے ایک ہسپتال میں برین ٹومر کا آپریشن کیا گیا تھا اور وہاں سے نریانا ہسپتال جموں منتقل کئے گئے اورجمعہ کی صبح وہ فوت ہوگئے۔ آنجہانی ڈاکٹر دلجیت سنگھ کا شمار وادی کے معروف معالجین میں ہوتا تھا اور انہوں نے ہزاروں بچوں کا علاج ومعالجہ کرنے کے ساتھ سینکڑوں کی تعداد میں طبی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کو تعلیم سے روشناس کیا ۔ڈاکٹر دلجیت سنگھ دردپورہ کریری میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم وہاں سے ہی حاصل کی ۔ڈاکٹر دلجیت سنگھ نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت کشمیر میں گزار ا ۔ڈاکٹردلجیت سنگھ نے UNICEFکی نیونٹل فیلوشپ برطانیہ سے حاصل کی اورانہوں نے اس فیلوشپ کے دوران حاصل کردہ تجربے کوکشمیرمیں بیماروں کاعلاج ومعالجہ کرنے کے دوران روبہ عمل لایا۔ ڈاکٹر دلجیت سنگھ کے انتقال پروادی کے معروف ماہر طب ڈاکٹر نذیر مشتاق نے دکھ اور صدمہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ڈاکٹر دلجیت سنگھ ایک زندہ دل انسان ہونے کے ساتھ ساتھ سچا دوست اور ایک بہترین استاد تھا ، اُن کا اپنے شاگردوں کو پڑھانے کا ڈھنگ ہی نرالہ تھا،وہ سب کی رہنمائی کرتے تھے۔ ڈاکٹرنذیر مشتاق نے کہا کہ شعبہ اطفال میں ڈاکٹر دلجیت نے مہارت حاصل تھی اور کشمیر کا کوئی ایسا گھر نہیں جہاں اُن کے چرچے نہ تھے، کیونکہ ہزاروں کی تعداد میں انہوں نے بچوں کا علاج کیا وہ ایسے معالج تھے کہ کبھی کوئی اُن سے مایوس نہیں ہوا کیونکہ رات دیر گئے بھی اگر کسی کو اُن کی ضرورت پڑتی تھی وہ حاضر ہو جاتے تھے، اس کے ساتھ وہ ثقافتی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہتے تھے ۔ڈاکٹر نذیر مشتاق نے کہاکہ ڈاکٹر دلجیت کے انتقال سے شعبہ صحت کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے ۔ڈاک کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے ڈاکٹر دلجیت سنگھ کی وفات کو شعبہ طب کیلئے ایک بڑا نقصان قراردیا۔ انہوںنے کہا کہ ڈاکٹر دلجیت سنگھ ایک قابل ڈاکٹر تھے اور انہوںنے شعبہ میں جوکام کیا ہے وہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس قدر مشہور تھے جب ماں کے بطن سے بچہ پیدا ہوتا تھا تو والدین اُس کو پہلے ڈاکٹر دلجیت سنگھ کے پاس لیجاتے تھے اور لوگوں کو اُن پر اعتبار تھا ۔سوشل میڈیا پر بھی ڈاکٹر دلجیت سنگھ کے انتقال پر لوگوں نے دکھ کا اظہار کیا ۔سہیل فاروق احمد نامی ایک شہری نے اپنے کومنٹ میں لکھا ’’ میں ابھی بھی یاد کرتا ہوں جب میں چھوٹا سا تھا اور اُن کی کلینک پر گیا وہ ایک انسان دوست شخص تھے ۔‘‘شیح مشتاق احمد نے تحریر کیا ’’ایک اچھا انسان اُستاد کی عمدہ مثال قائم کر کے ہم سے دور چلا گیا ۔‘‘اسرار احمد بٹ نامی ایک شہری نے تحریر کیا ’’ ہمارے بچوں کا بخار ڈاکٹر صاحب کے پاس جانے کے بغیر نہیں اُترا تھا ۔‘‘ایک نوجوان نے لکھا’’ میرے والدین مجھے کہتے تھے ،جب میں پیدا ہوا تو مجھے سب سے پہلے ڈاکٹر دلجیت سنگھ کو ملاحظہ کیلئے دکھایا گیا ۔‘‘سوشل میڈیا پر کئی ایک لوگوں نے تحریر کیا ’’ڈاکٹرسنگھ کی طبی خدمات کوکبھی فراموش نہیں کیاجائیگابلکہ اُنکی کمی کومحسوس کی جائیگی کیونکہ موصوف کابیماروں کے تئیں رویہ ہمیشہ نرم اورمشفقانہ رہتاتھا۔ڈاکٹر دلجیت سنگھ کی وفات بلاشبہ ایک بڑانقصان ہے کیونکہ انہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران طبی محاذپرجوخدمات انجام دیں ،اُن کی برپائی کرناآسان کام نہیں ہے۔