بانہال // باقی ریاست میں اگرچہ سیاسی سرگرمیاں نا کے برابر ہیں تاہم ضلع رام بن کا حلقہ انتخاب بانہال سیاسی محاذ پر پچھلے کئی مہینے سے سرگرم ہے اور الیکشن سے دو سال کی دوری پر ہونے کے باوجود بھی پی ڈی پی ،کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے لیڈران اور ورکر رائے دہندگان کو اپنی اپنی طرف مائل کرنے کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاکر سیاسی جلسے اور سیاسی میٹنگیں منعقد کر رہے ہیں۔ ابھی تک عوام نے بھی سیاسی جماعتوں کو مایوس نہیں کیا ہے اور تینوں جماعتوں کے جلسوں اور ریلیوں میں لوگ جوق در جوق پہنچ کر وابستہ سیاسی پارٹیوں کے جلسوں کو کامیاب بنا رہے ہیں۔ بانہال قصبہ اور اس کے اطراف میں کشمیر کی مسلسل ہلاکتوں پر ہڑتالوں اور احتجاجوں کی وجہ سے جہاں سیاسی سرگرمیاں سیاسی جماعتوں کے خاص ورکروں تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہیں وہیں پوگل پرستان ،کھڑی ، رامسو اور نیل کے علاقوں میں پچھلے دو تین مہینے سے ہونے والے جلسوں اور سیاسی لیڈروں کے دوروںے ایسا لگتا ہے کہ جیسے الیکشن سر پر ہیں اور ووٹ مانگنے کیلئے سیاسی لیڈروں میں دوڑ لگی ہوئی ہے ۔ لگے ہاتھ پنتھرس پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے بھی اس دوران کئی سیاسی میٹنگیں اور ریلیاں منعقد کیں ہیں لیکن ان کا محور مگرکوٹ ، اکڑال اور کھڑی کے علاقوں تک ہی محدود ہے ۔ حلقہ انتخاب بانہال جغرافیائی لحاظ سے کئی بلاکوں اور علاقوں میں تقسیم ہے جس میں بانہال، نوگام ، رامسو، نیل ، اکڑال،پوگل پرستان اور کھڑی، مہومنگت کے علاقے قابل ذکر ہیں۔ بانہال بلاک کو چھوڑ کر بقیہ علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں پچھلے کئی ماہ سے مسلسل جاری ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بظاہر ان میں تیزی آنے کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں ۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پچھلے الیکشن کے مقابلے میں اس الیکشن میں کانگریس ، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کے درمیان زوردار ٹکراؤ کی امید ہے اور ہر کوئی پارٹی چاہتی ہے کہ وہ پچھلے الیکشنوں کے مقابلے اس بار اپنے کھاتے میں چار پانچ ہزار ووٹوں کا اضافہ کرکے حلقہ انتخاب بانہال کی نشست پر جیت درج کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ وادی چناب کے باقی علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں نا کے برابر ہیں لیکن بانہال میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور بیانات جوابی بیانات اور دعووں اور جوابی دعووں کی بوچھاڑ لگی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا کی سائٹس ایسے بیانات سے بھری پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے جلسوں اور وہاں داغے جانے والی تقریروں کے ردعمل میں اپنے جلسے اور بیانات سے اپنی اپنی طاقت کا بھر پور مظاہرہ کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی جماعتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ووٹروں کو اپنی طرف راغب کیا جائے لیکن آخر میں کیا سیاسی لہر چلے گی اور سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کیلئے عوام اور سیاسی پارٹیوں کے پاس انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانہال نشست کیلئے کئی سیاسی جماعتوں سے وابستہ لیڈر آپس میں مل کر اپنے ووٹوں کی تعداد میں اضافہ کرکے بانہال سیٹ کو جتنے کو شش میں لگے ہیں اور اس کیلئے اندرونی سطح پر کوششیں کی جارہی ہیں ، جبکہ بعض نئی سیاسی جماعتوں یا نئے چہروں کو بھی الیکشن میں اترنے کے امکانات کو خارج نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ حلقہ انتخاب بانہال میں 2014 کے اسمبلی الیکشن میں سابقہ وزیر اور کانگریس لیڈر وقار رسول کو دوسری بار کامیابی حاصل ہوئی تھی اور انہوں نے 17671 ووٹ لئے تھے جبکہ پی ڈی پی کے لیڈر اور سابقہ آئی اے ایس افسر بشیر احمد رونیال کو13322 ووٹ ، نیشنل کانفرنس کے لیڈر حاجی سجاد شاہین کو 13002 ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے شوکت جاوید ڈینگ کو 9874 ووٹ ، NOTA کو 2405 ووٹ ، پنتھرس پارٹی کے سیوا سنگھ بالی کو 733 اور بہو جن سماج پارٹی کے محمد علی کو 656 ووٹ ملے تھے۔ اس سے پہلے سنہ 1967 سے اب تک حلقہ انتخاب بانہال سے مرحوم محمد اختر نظامی ، مرحومہ ہاجرہ بیگم ( بلا مقابلہ کامیاب )، مرحوم مولوی عبدالرشید تین بار ، محمد فاروق میر اور وقار رسول دو دو بار ممبر اسمبلی کے طور پر نامزد کئے گئے ہیں۔خیر بات جو بھی ہو لیکن یہ حقیقت صاف دکھائی دے رہی ہے کہ بانہال میں آئیندہ کا اسمبلی الیکشن کانگریس ، پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کیلئے سخت امتحان لیکر آئے گا۔