ریاسی//عوام کے جان و مال کے محافظ اور امن و قانون کے رکھوالوں نے ہی عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے اور طاقت کے بے تحاشہ استعمال اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا دائرہ ہر دن گزرنے کے ساتھ وسیع ہوتا جارہا ہے جبکہ زمینی سطح پر حکومت اور وزراء کا کہیں نام و نشان نہیں، مرکز سے لیکر ریاستی سرکار تک کئی بار پیلٹ گن کے استعمال بند کرنے اور SOPپر عملدرآمد کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی لیکن اس کے باوجود اس مہلک ہتھیار کا استعمال ہونا اس بات کا برملا ثبوت ہے کہ حکمرانوں نے سیکورٹی فورسز کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور عوام کیخلاف جنگ چھیڑ دی گئی ہے۔ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے ریاسی جموں میں مختلف اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ کے اعلانات اور حکومتی دعوئوں کے باوجود SOPکو بالائے طاق رکھ جارہا ہے اور مظاہرین پر براہ راست گولیوں اور پیلٹ برسائے جارہے ہیں، جہاں 4عام شہری گولیوں کی بھینٹ چڑے وہیں17بری طرح مضروب ہوئے جبکہ پیلٹ سے زخمی ہونے والوں کا کوئی شمار نہیں۔ پیلٹ گن کے استعمال سے صرف ایک دن میں 41عام شہری ایک یا دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر ایسے بیانات جاری ہورہے ہیں کہ جیسے زمینی سطح پر سب کچھ ٹھیک ہے۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج ہمارا نوجوان نالاں ہے اور روزگار ڈھونڈنے کے بجائے ہتھیار اُٹھارہے ہیں۔ یہ سب کچھ پی ڈی پی بھاجپا حکومت کی اُسی پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت یہاں کے نوجوانوںکو پشت بہ دیوار کیا گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہاکہ ریاستی حکومت نے عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے جبکہ مرکزی سرکار خصوصاً وزیر اعظم خاموش تماشائی کا رول ادا کررہی ہے۔ امن و قانون کی صورتحال سے نمٹنے میں ربط و ضبط اور SOPکو بالائے طاق رکھ کر لوگوں کی زندگیوں کیساتھ کھلواڑ کیا جارہاہے۔ پیلٹ گن کے بے تحاشہ استعمال پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ گذشتہ 3سال سے یہ ہتھیار انتہائی مہلک اور جان لیوا ثابت ہوا ہے اور اس ہتھیار کے بلا جواز استعمال کی خبریں بھی آئے روز موصول ہورہی ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ مسئلہ کشمیر امن و قانون کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی یہ مسئلہ اقتصادی اور روزگار پیکیجوں سے حل ہوسکتا ہے۔ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طور پر حل کرنا لازمی ہے۔ نیشنل کانفرنس نے اقتدار سے باہر اور اقتدار میں رہ کر بھی اس مسئلہ کے سیاسی حل کی وکالت کی ہے اور پارٹی آج بھی اپنے موقف پر قائم و دائم ہے۔ اُن ہمراہ پارٹی سینئر لیڈران سابق وزیر عبدالغنی ملک، محمد فاروق مغل، چودھری صادق محمد ، حاجی محمد خمید، حاجی غلام نبی، چودھری وزیر احمد، چودھری میر حسین، چودھری رفیق، چودھری شوکت علی، چودھری طالب حسین کے علاوہ بلاک صدور اور دیگر عہدیداران بھی موجو دتھے۔