حریت قرارداد دلّی کیخلاف ریفرنڈم

سرینگر//حریت(گ) چیئرمین سید علی گیلانی نے نماز جمعہ ادا کرنے پر پابندی عائد کرنے کی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ریاست کی سرزمین پر اپنے 8لاکھ سے زائد قابض افواج اور نیم فوجی دستوں کے علاوہ مقامی پولیس انتظامیہ کے بل بوتے پر حریت پسند راہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں مقید رکھنے اور عام لوگوں پر جبروتشدد کی ظالمانہ کارروائیوں سے مرعوب کرنے کی بھرپور کوششیں کررہا ہے، لیکن حریت پسند عوام اور قائدین واراکین حریت کے بلند عزائم کے مقابلے میں اِسے ہر محاذ پر شکستوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت یہاں کے حریت پسندوں کے لیے سیاسی پلیٹ فارم کو مسمار کرتے ہوئے ان کا سیاسی مقابلہ کرنے سے خائف ہوچکا ہے۔ گیلانی نے فلسطینی عوام پر صہیونی جارحیت کے نتیجے میں یہاں معصوم انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کی بہیمانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ حریت رہنما نے جمعۃ الوداع کے مقدس موقع پر جملہ ائمہ حضرات کی طرف سے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے جاری کی گئی قراردادوں کی تائید وتوثیق کرنے کا بھارت کے قبضے کے خلاف ایک مؤثر عوامی ریفرنڈم سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حریت پسند عوام بھارت کے مقامی ایجنٹوں کی ریشہ دوانیوں سے ہر محاذ پر خبردار رہیں اور انہیں کسی بھی صورت میں اپنی حمایت دینے سے گریز کرنا چاہیے۔الیکشن میں ووٹ دینے کا معاملہ ہو یا پھر سرکاری تقریبات میں شمولیت کرنے کا معاملہ ہو ہر صورت میں ان کا سوشل بائیکاٹ ہونا چاہیے۔