حرکت قلب بند ہونے سے 29.6فیصد اموات ریکارڈ

سرینگر // وادی کشمیر امراض قلب کی بیماریوں کیلئے پورے ملک میں سر فہرست ہے اور حرکت قلب بند سے ہورہی اموات میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ شدید سردیوں کے ایام میں اس طرح کی اموات بڑھ جاتی ہیں۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ذہنی تنائو،جسمانی قوت بڑھانے کیلئے استعمال ہونے والی ادویات، شوگر، موٹاپا اور نشیلی ادویات کے استعمال کی وجہ سے نوجوانوں میں حرکت قلب بند ہونے سے اموات ہورہی ہیں۔ایک میڈیکل سروے میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں 21سال سے 35سال  کی عمرکے نوجوان حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہورہے ہیں اور ان میں ایسے نوجوان بھی ہوتے ہیں جو نشہ نہیں کرتے اور جو دیگر کوئی دوائی کا استعمال بھی نہیں کرتے۔ گلوبل ہیلتھ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے سال 2021میں ملک کی مختلف ریاستوںمیں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر میں ہونے والی اموات میں 29.6فیصد حرکت قلب بند ہونے سے ہوتی ہیں۔سکمز میں شعبہ امراض قلب کے ماہر معالج اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عمران حافظ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ موٹاپا ، شوگر، بلڈ پریشر، ذہنی دبائو ،جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور طرز زندگی میں بدلائو کی وجہ سے عمر رسیدہ افراد حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہوجاتے ہیں ‘‘۔ڈاکٹر عمر ان نے بتایا ’’پچھلے 8سال میں حرکت قلب بند ہونے کے واقعات میں بہت حد تک اضافہ ہوا ہے اور اب 35سال سے کم عمر  نوجوان بھی حرکت قلب بند ہوکر اپنی زندگی کھو بیٹھتے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ کشمیر میں نوجوانوں میں حرکت قلب بند ہونے کی دو بڑی وجوہات ہیں جن میں ایک نشیلی ادویات کا استعمال ہوتا ہے۔ڈاکٹر حافظ کا کہنا تھا کہ نشیلی ادویات کا استعمال کرنے والے نوجوانوں میں سانس لینے کی نلی میںورم چڑتا ہے اور بعد میں ان میں اچانک سانس کی نلی بند ہوجاتی ہے اور انکی موت کہیں بھی پر واقع ہوجاتی ہے۔ ڈاکٹر عرفان حافظ نے بتایا ’’ دوسری بڑی وجہ جیم یا فٹنس سینٹروں میں پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی قوت بڑھانے کیلئے استعمال ہونے والی ادویات ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ان ادویات کی وجہ سے جسم کے دیگر اعضاء کے علاوہ دل کے پٹھے بھی بڑھنے لگتے ہیں اور وہ بعد میں حرکت قلب بند ہونے کی بڑی وجہ بن جاتی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ سکمز کے شعبہ امراض قلب میں ہر ہفتے ایسے 20سے 25نئے معاملات درج ہوتے ہیں، جن کی موت حرکت قلب بند ہونے سے ہوتی ہے اور انکی وجہ نشیلی ادویات یا فٹنس سینٹروں میں استعمال کی جانے والی ادویات ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال شعبہ میں آنے والے مریضوں میں 1500سے زیادہ افراد قلب بند ہونے کے شکار ہوجاتے ہیں۔ گلوبل ہیلتھ ریسرچ انسٹی کی تحقیق کے مطابق جموں و کشمیر میں ہر سال حرکت قلب بند ہونے سے 29.6فیصد اموات ہوتی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 25سے 29سال کے عمر میں ہونے والی اموات میں 25.فیصد اموات حرکت قلب بند ہونے سے ہوتی ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مرنے والے نوجوانوں میں 32.8فیصد اموات شہری علاقوں میں اور 22.9فیصد اموات دیہی علاقوں میں ہوتی ہیں۔ انڈین میڈینل ریسرچ سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں سال 2016میں ہونے والے ایک لاکھ اموات میں 3256افراد حرکت قلب بند ہونے سے فوت ہوئے ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ امراض قلب کے سربراہ ڈاکٹر خالد محی الدین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’  55سے 65سال کی عمر کے لوگوں میں حرکت قلب بند ہونے کی بڑی وجہ بلڈ پریشر، شوگر، اور دیگر بیماریاں سمجھی جاتی تھیںلیکن اب 30سال کے عمر کے نوجوان بھی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے فوت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں حرکت قلب ہونے کی سب سے بڑی وجہ سگریٹ اور تمباکو نوشی ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ دوسری بڑی وجوہات میں طرز زندگی میں بدلائو ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ کھانا دستیاب ہونے کی وجہ سے لوگ اب موٹاپے کا شکار ہوگئے ہیں۔ ڈاکٹر خالد محی الدین نے کہا کہ موٹر گاڑیوں کا استعمال اور چلنے پھرنے میں کمی اور دیگر سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے نوجوان نسل اب دل کی مختلف بیماریوں کی شکار ہورہی ہے۔ ڈاکٹر خالد  نے کہا کہ سردی کے ایام کے دوران کشمیر میں سخت سردی کی وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت کم ہوجاتی ہے اور لوگ گھروں میں بیٹھ کر نمکین چاہئے کا زیادہ استعمال کرتے ہیں جو بعد میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ بھی بنتی ہے۔ انہوں نے کہا ’’Heart attack اور Heart Arrestکے درمیان فرق کو لوگوں کو سمجھنا ہوگا۔ ڈاکٹر خالد محی الدین نے بتایا’’ Heart Attack شوگر، زیادہ کھانے ، موٹا پے اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن  Heart Arrestان لوگوں میں ہوتا ہے جو خاندانی بیماری کی وجہ سے دل کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ کبھی میدان میں کھیلتے ہوئے اور کبھی گھر میںسوتے ہوئے فوت ہوجاتے ہیں۔