حد بندی کمیشن چیلنج کرنے والی عرضیاں| سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ ۔2نفری بینچ کے سامنے فریقین کے دلائل مکمل

نیوز ڈیسک

سرینگر//سپریم کورٹ نے جموں وکشمیرمیں اسمبلی وپارلیمانی حلقوںکی حدبندی کے عمل کوچیلنج کرنے والی عرضی پراپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک عرضی پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا جس میں جموں و کشمیر میں قانون ساز اسمبلی اور لوک سبھا حلقوں کی دوبارہ ترتیب دینے کیلئے حد بندی کمیشن کی تشکیل کے حکومتی فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا کہ حکومت نے آئینی دفعات کی خلاف ورزی کی ہے۔سپریم کورٹ کے جسٹس ایس کے کول اورجسٹس ابھے ایس اوکا کی2نفری بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا، الیکشن کمیشن کے وکیل اور درخواست گزاروں کے وکیل کی عرضیوں پر سماعت کی۔

 

دونفری بینچ نے فریقین کے وکلاء کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں دئیے گئے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔دو درخواست گزاروں حاجی عبدالغنی خان اور محمد ایوب متو کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حد بندی کی مشق آئین کی اسکیم کے خلاف کی گئی اور حدود میں ردوبدل اور توسیعی علاقوں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔عرضی میں یہ کہاگیا کہ جموں و کشمیر میں نشستوں کی تعداد107 سے بڑھا کر 114 (پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کی 24 نشستوں سمیت) کرنا آئینی دفعات اور قانونی دفعات خاص طور پر جموں و کشمیر تنظیم نو قانون2019 کی دفعہ 63 کے تحت کے خلاف ہے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ آخری حد بندی کمیشن 12 جولائی 2002 کو قائم کیا گیا تھا، جو حد بندی ایکٹ 2002 کے سیکشن 3 کے ذریعے حاصل اختیارات کے استعمال میں، 2001 کی مردم شماری کے بعد پورے ملک میں اس مشق کو انجام دینے کے لیے بنیا گیا تھا۔نیز آئینی اور قانونی دفعات کے ساتھ 5 جولائی 2004 کے خط کے ذریعے اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حد بندی کے لیے رہنما خطوط اور طریقہ کار بھی وضع کیا گیا تھا۔اس میں کہا گیا کہ ہندوستان کے آئین کا آرٹیکل 170 یہ کہتاہے کہ ملک میں اگلی حد بندی 2026 کے بعد کی جائے گی تو پھر مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر کو کیوں الگ کیا گیا ؟۔درخواست میں مزیدکہا گیا ہے کہ 6 مارچ 2020 کے نوٹیفکیشن کے تحت مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور ریاستوں، آسام، اروناچل پردیش، منی پور اور ناگالینڈ میں مرکز کی طرف سے حد بندی کمیشن کی تشکیل کی گئی تھی اور اس کے نتیجے میں آسام، اروناچل پردیش، منی پور اور ناگالینڈ کوچھوڑ دیا گیا ۔3 مارچ2021 کی نوٹیفکیشن کے مطابقصرف جموں و کشمیر علاقے کے لیے حد بندی کرنا غیر آئینی ہے کیونکہ یہ درجہ بندی کے مترادف ہے اور آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی کرتا ہے۔