جھڑپوں میں تباہ ہوئے مکانات کی تعداد

سرینگر// جنگجو مخالف آپریشنوں کے دوران تباہ ہوئے مکانات سے متعلق مکمل تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ریاستی حقوق انسانی کمیشن نے چیف سیکریٹری کے علاوہ محکمہ داخلہ کے کمشنر سیکریٹری اور پولیس سربراہ کو حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا ہے۔ انسانی حقوق کے ریاستی کمیشن کے ڈویژن بینچ نے چیف سیکریٹری کے نام نوٹس جاری کرتے ہوئے امسال فوج اور جنگجوئوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران تباہ ہوئے مکانات کی مکمل تعداد کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔اس سلسلے میں ریاستی وزارت داخلہ کے سیکریٹری،صوبائی کمشنر کشمیر اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کے نام بھی نوٹسیں روانہ کرتے ہوئے تینوں افسران سے6مارچ تک مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیشن نے انٹرنیشنل فورم فار جسٹس چیئرمین محمد احسن اونتو کی طرف سے امسال6جون کو کمیشن میں ایک عرضی زیر نمبر  SHRC/189 Kmr/2018 کے ردعمل میں نوٹسیں جاری کی ہیں۔کمیشن میں کیس کی شنوائی کے دوران ڈویژن بینچ نے ڈائریکٹر جنرل پولیس اور سیکریٹری داخلہ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا’’ایسا نظر آرہا ہے کہ آپ(سیکریٹری داخلہ و پولیس سربراہ)،اس معاملے میں مجبور ہیں،کیونکہ بارہا یاداشتوں کے باوجود آپ کی طرف سے کوئی بھی ردعمل سامنے نہیں آرہا ہے‘‘۔کمیشن نے صلاح دیتے ہوئے کہا’’ یہ معقول ہوگا کہ اگر چیف سیکریٹری محکمہ داخلہ،پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے متعلقہ افسران کی میٹنگ کا انعقاد کرتے ہیں،تاکہ اس مسئلے کو معقول نظریہ سے دیکھا جاسکے‘‘۔ کمیشن کے ڈویژن بینچ نے کہا’’ چیف سیکریٹری جتنا ممکن ہو سکے اتنا ایسا کریں،اور کمیشن کو مطلع کریں کہ میٹنگ کا ماحاصل کیا ہوا،جبکہ عرض گزار کی طرف سے معقول نمونہ کو بھی ریاستی چیف سیکریٹری کو روانہ کیا جائے گا،تاکہ وہ از خود اس مسئلے کی شدت کو دیکھ سکے،اور وہ6مارچ2019تک معقول جواب کے ساتھ سامنے آئے۔