بانہال //بانہال اور جواہر ٹنل کے آر پار شدید ٹریفک جام رہا جس کی وجہ سے شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت جواہر ٹنل کے آرپار دوپہر بعد تک وقفے وقفے سے متاثر رہی اور بانہال اور ٹنل کے دونوں طرف گاڑیوں کی نقل وحرکت سست رفتاری کا شکار رہی ۔ بانہال سے مریضوں کو لیکر جانے والی 2 ایمبولینس گاڑیوںکو بھی کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام میں پھنسے رہنا پڑا۔پیر کی علی الصبح سے ہی ٹنل کے دونوں طرف اور ٹنل کے اندر بھی ٹریفک جام لگا رہا اور دو طرفہ ٹریفک کئی گھنٹوں تک ٹریفک متاثر ہو کر رہ گیا ۔ بانہال سے وادی کے ہسپتالوں کی طرف 2ایمرجنسی مریضوں کو لیکر جانے والی ایمبولینس گاڑیاں بھی کئی گھنٹوں تک جام میں پھنسی رہیں اور ایک ایمبولینس ٹنل کے اندر بھی ایک گھنٹے تک جام میں پھنسی رہی۔ ایمبولینس ڈرائیور نور محمد خان نے بتایا کہ وہ پیر کی صبح سات بجے بانہال سے ایک خاتون مریضہ کو لیکر سرینگر کی طرف نکلے لیکن جواہر ٹنل پار تک 18 کلومیٹروں کا سفر طے کرنے میں انہیں پانچ گھنٹے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بے ہنگم ٹریفک جام کی وجہ سے انہیں قریباً ایک گھنٹے تک ٹنل کے اندر بھی جام میں پھنسے رہنا پڑا۔ اسی طرح ایک گیارہ ماہ کے بیمار بچے کو لیکر جانے والی ایمبولینس گاڑی کے ڈرائیور جلیل احمد راتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہیں بانہال سے ٹنل تک پہنچنے میں چار گھنٹے لگے اور اننت ناگ کے ہسپتال سے واپس آنے کے بعد بھی وہ پھر دو گھنٹے تک ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران ٹریفک اہلکار کہیں بھی موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے مریضوں کے ساتھ ساتھ عام مسافروں کو بھی تیز دھوپ میں ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔