جنگ بندی معاہدہ کے 11ماہ مکمل،حد متارکہ پر گولیوں کا نہیں مٹھائیوں کا تبادلہ

ٹیٹوال+پونچھ// جنگ بندی معاہدہ پر عملدرآمد کے 11ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور سرحدوں پر ماضی کی صورتحال لوٹ آئی ہے۔اب لائن آف کنٹرول پر گولیوں کا نہیں مٹھائیوں کا تبادلہ ہورہا ہے۔سال نو کے موقعہ پر جذبہ خیر سگالی کے تحت ٹیٹوال کراسنگ کرناہ اور پونچھ میں حد متارکہ پر بھارت اور پاکستانی فوج نے آپس میں مٹھیائیاں تقسیم کیں اور ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کی۔سنیچر کی صبح ہی ٹیٹوال سیکٹر میں دونوں ملکوں کے فیلڈ کمانڈروں کے درمیان آر پار ہاٹ لائن پر بات کی گئی جس کے بعد دونوں اطراف کی فوج کے افسر ان جمع ہوئے  ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ پل کے بیچ جمع ہوئے جنہوں نے ہاتھوں میں مٹھائیوں کے ڈبے اٹھائے تھے جن پر نئے سال کی مبارک درج تھی ۔دونوں ممالک کے مابین یوم آزادی ،نئے سال کی آ مد اور تہواروں کے موقع پر ایک دوسرے کو مٹھائیاں دینے کی روایت ایک طویل عرصے سے چل رہی ہے ۔جموں صوبے کے ضلع پونچھ میں پونچھ راولاکوٹ کراسنگ پوائنٹ کے قریب لائن آف کنٹرول پر بھی مٹھائی کا تبادلہ ہوا ۔یہاں بھی دونوں ملکوں کی افواج کے مقامی کمانڈروں کے درمیان بات چیت کے بعد مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ اس موقعہ پر تصاویر بھی اٹھائی گئیں۔معلوم رہے کہ سرحدی علاقوں میں سیز فائر پر عملدرآمد ہونے کے قریب 11ماہ گزر چکے ہیں اور سرحدی علاقوں میں امن اور سکون لوٹ آیا ہے ۔گزشتہ سال25 فروری کو اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ 2003کے جنگ بندی معاہدے  پر من و عن عمل کیا جائے ، تب سے لائن آف کنٹرول پر امن قائم ہے۔سرکاری ا عدادوشمار کے مطابق 2020میں ہندوپاک افوج کے درمیان جنگ بندی معاہدہ کی سینکڑوں خلاف ورزیاں کی گئیں 24اور25فروری کی درمیانی رات کو دونوں حکومتوں نے ڈی جی ایم او سطح پر ایک میٹنگ کے دوران لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ اس سے ساتھ لگنے والی سبھی سرحدوں پر جنگ بندی اور دیگر سمجھوتوں پر اتفاق  کیا جس کا اثر آج سرحدی آبادی میں دیکھا جا رہا ہے ۔ ادھر جموں میں مقیم ایک دفاعی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ باہمی اعتماد سازی اور امن و سکون کو یقینی بنانے کے لئے سال2022 کے آغاز پر پونچھ اور مینڈھر کراسنگ پر ہندوستان اور پاکستانی فوج نے آپس میں مٹھائیاں تقسیم کیں اور ایک دوسرے کو مبارکبادی بھی دی۔بیان میں کہا گیا کہ سرحدوں پر جاری جنگ بندی معاہدے پر عمل در آمد کے بیچ اس قسم کے اقدام سے جموں و کشمیر میں امن و آشتی کو مزید فروغ ملے گا۔ چکاں دا باغ میں حدِ متارکہ پرہندوستانی فوج اورپاکستانی رینجرس نے سنیچروار کو نئے سال کے موقعہ مٹھائیوں کا تبادلہ کرکے ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ حدِ متارکہ پر فوج کے جوانوں کو پاکستان رینجرس کی جانب سے مٹھائی دے کر مبارک باد پیش کی گئی جبکہ ضلع کی دیگر علاقوں میں بھی سرحدی چوکیوں پرمٹھائیاں دینے کا دور چلا۔واضح رہے کہ لگ بگ ایک سال سے ہندوپاک افواج میں جنگ بندی معاہدہ ہواہے جس کہ بعدسے عرصہ دراز تک دونوں افواج میں ہونے والی گولہ باری کا سلسلہ بالکل بند ہیں ۔اس دوران جہاں سرحدی عوام راحت محسوس کر رہے ہیں وہی فوج بھی سرحدوں پر آپسی روابط کو بہتر بنائے رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال2021کے ماہ فروری میں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کے معاہدے پر عمل در آمد کا فیصلہ ہوا۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سال 2003میں جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا لیکن اس کے باوصف سرحدوں پر طرفین کے درمیان ایک دوسرے کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر گولہ باری کے تبادلے کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں سر حدوں کے آر پار بے تحاشا جانی و مالی نقصان ہوا ہے ۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے سرحدوں پر سال 2020 کے دوران ہندوستان اور پاکستان کی فوج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے زائد از پانچ ہزار واقعات رونما ہوئے ہیں۔