جنگلاتی حقوق کے قانون کانفاذ، آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل

سرینگر // محکمہ جنگلات کی جانب سے ماہرین کی ایک آٹھ ممبران کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ جموں وکشمیر میں جنگلاتی حقوق قانون مجریہ 2006 کے نفاذ کے لئے تکنیکی اور قانونی مدد فراہم کی جاسکے۔فارسٹ آرڈر نمبر 262of 2020محررہ10اکتوبر2020  جس کی توثیق PCCF/Coord/Sche.Tribes/Misc-3/9378-83 کے بعد اس موضوع کے تحت آئینی کمیٹی کو منظوری دے دی گئی ۔ محکمہ جنگلات کے پرنسپل چیف کنزرویٹر (ایچ ایف ایف) ، ڈاکٹر موہت گیرا کے جاری کردہ ایک حکم کے مطابق ، جنگلاتی حقوق ایکٹ کے نفاذ کے سلسلے میں تکنیکی اور قانونی مدد فراہم کرنے کے لئے آٹھ  افسراں پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائی گئی۔شیڈول ٹرائب اور دیگر روایتی جنگل میں رہائش پذئر باشندوں (جنگل کے حقوق کی پہچان) ایکٹ 2006 کے نفاذ کے لئے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ایڈیشنل پرنسپل چیف کنزرویٹر برائے جنگلات ، اور چیف ایگزیکٹو افسر، کیمپا ، سروش رائے کی سربراہی میں ، ماہرین کی اس کمیٹی میں سات ممبر ہوں گے جن میں سی سی ایف سنٹرل ٹی ربی کمار ، سی سی ایف (ڈبلیو پی آر اینڈ ٹی)  ، ، سی ایف ڈاکٹر بالاجی ، اے سی ایف رسل گڑگ ااور پی ایل او پرمجیت سنگھ،، سی آر (ڈبلیو پی آر اینڈ ٹی) عرفان علی شاہ بطور ممبر ہونگے جبکہ سی سی ایف ایس اینڈ ڈی شیلی رنجن ممبر سکریٹری  کے طور پر کام کریں گے۔احکامات کے مطابق ، کمیٹی ماہرین سے مشورہ کرے گی اور موجودہ مرکزی اور ریاستی قوانین ، عدالت کے مختلف احکامات کا جائزہ لے گی اور تکنیکی معلومات فراہم کرے گی۔ڈاکٹر موہت گیرا کے مطابق’’کمیٹی جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات کے لئے جنگل حقوق قانون کے نفاذ کے مختلف پہلوؤں پر ماہرین کے طور پر کام کرے گی اور مختلف تربیت کاروں کو ان کی تربیت کے انعقاد کی نگرانی کے لئے ایک تربیتی ماڈیول بھی تیار کرے گی۔‘‘انہوں نے اس آرڈر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ کمیٹی تفویض کردہ مینڈیٹ کی ضرورت کے مطابق دیگر افسران اور ماہر ممبروں کا انتخاب کرسکتی ہے۔خاص طور پر ، فارسٹ  حق قانون مجریہ2006 کے تحت ، جنگل میں آباد شیڈول قبائل اور دیگر روایتی جنگل کے رہائشیوں کو رہائش ، خود کی کاشت ، روزگار ، ملکیت ، ان تک رسائی ، استعمال، جنگلات کی پیداوار ، اور دوسروں کے درمیان موسمی وسائل کا حقدارکے تصفیے کے مقصد کے تحت جنگل کی زمین پر حقوق فراہم کیے جائیں گے۔تاہم  اس ایکٹ کے تحت جو حقوق دیئے گئے ہیں وہ وراثت کے حامل ہوں گے ، لیکن ان کا تبادلہ نہیں ہوگا۔