جموں کشمیر کی سیکورٹی صورتحال پہلے سے بہتر

نیوز ڈیسک
جموں// جموں کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی سیکورٹی کی صورت حال پہلے کے مقابلے بہت بہتر ہوئی ہے اورملی ٹینسی کارروائی کے ارتکاب کے بعد کم سے کم وقت کے اندر عسکریت پسندوں کو “بے اثر” کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ملی ٹینٹ گروپس اور ان کے ہینڈلرز جموں اور کشمیر کے پرامن ماحول سے تشویش میںہیں جو سرحد پار سے ہتھیاروں کی اسمگلنگ کی بڑھتی ہوئی کوششوں اور پاکستانی ملی ٹینٹوں کی جگہ مقا می نوجوانوںکو ورغلانے سے ظاہر ہے۔ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نے سانبا ضلع کے پلی گاؤں میں نامہ نگاروں کو بتایا”سکیورٹی کی صورت حال پہلے سے کہیں بہتر ہے اور روزانہ کی بنیاد پر انسداد شورش کی کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ملی ٹینٹ عناصر اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں لیکن اس طرح کے حملوں میں ملوث افراد کی جلد ہی شناخت کی جا رہی ہے اور انہیں بے اثر کر دیا جاتا ہے” ۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پولیس سربراہ کے ساتھ 24 اپریل کو قومی یوم پنچایت کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ کے مقام پلی پنچایت کا دورہ کیا اور انتظامات کی نگرانی کی۔انہوں نے کہا کہ غیر معروف ملی ٹینٹ گروپ بارش کے موسم میں مشروم کی نشوونما کی طرح ہے۔ اس قسم کے گروہوں کا زمین پر کوئی وجود نہیں ہے اور ایک کارروائی کا دعویٰ چار گروہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت حال میں ملوث افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے اور ہمیں امید ہے کہ جلد ہی انہیں بے اثر کر دیا جائے گا۔ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس کو آر پی ایف اہلکاروں پر پیر کے حملے کے حوالے سے ٹھوس سراغ ملے ہیں اور اس واقعہ میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے سری نگر میں سی آر پی ایف پارٹی پر حملے میں ملوث دو پاکستانی ملی ٹینٹوں کی حالیہ ہلاکت کا حوالہ دیا اور کہا، ”جب مقامی نوجوان ناکام ہو جاتے ہیں، تو ان کی جگہ پاکستانی ملی ٹینٹ لیتے ہیں جنہیں جعلی آدھار کارڈ (آزادانہ نقل و حرکت کے لیے) دیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس ملی ٹینٹوں کی جانب سے کسی بھی بزدلانہ کارروائی کا منہ توڑ جواب دے گی۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا دہشت گرد امرناتھ یاترا سے پہلے خوف پیدا کرنا چاہتے ہیں، جو 30 جون کو شروع ہونے والی ہے۔